وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو بڑا ریلیف دینے کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی مختلف تجاویز تیار کر لی ہیں۔ تاہم ان تجاویز پر عملدرآمد اور ان کی حتمی منظوری بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری مذاکرات کے نتائج سے مشروط ہوگی۔
آئی ایم ایف کا دائرہ کار محدود کرنے کا اصرار
ذرائع کے مطابق ’آئی ایم ایف‘ نے پاکستان کے مجوزہ ٹیکس ریلیف پیکیج کا دائرہ کار محدود کر دیا ہے اور کاروباری شعبوں سمیت مختلف سیکٹرز کو وسیع پیمانے پر ٹیکس رعایتیں دینے کی سخت مخالفت کی ہے۔ اس صورتحال کے بعد وفاقی حکومت نے اپنی تمام تر توجہ بنیادی طور پر صرف تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز کر دی ہے۔
ایف بی آر کی تجاویز اور نئے ٹیکس سلیبز
ذرائع کا کہنا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس ریلیف سے متعلق متعدد اہم تجاویز مرتب کرکے وزیر اعظم کو ارسال کر دی ہیں۔ ان تجاویز میں ماہانہ 2 لاکھ سے 3 لاکھ روپے تک تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بجلی سبسڈی کی اجازت دے دی
حکومتی ذرائع کے مطابق اس مجوزہ اقدام سے ملک بھر میں تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کو براہِ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ آمدنی رکھنے والے تنخواہ دار افراد کے لیے بھی ٹیکس سلیبز اور شرحوں میں تبدیلی کے مختلف آپشنز زیرِ غور ہیں تاکہ ان پر سے ٹیکس کا بوجھ کسی حد تک کم کیا جا سکے۔
10 جون سے قبل آئی ایم ایف کو بریفنگ
دوسری جانب وزارتِ خزانہ اور ’ایف بی آر‘ تنخواہ دار طبقے کے علاوہ چند دیگر اہم ٹیکس اقدامات پر بھی غور کر رہے ہیں، تاہم ان میں سے بیشتر تجاویز پر عملدرآمد کے لیے ’آئی ایم ایف‘ کی منظوری لازمی ہوگی۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کی جانب سے منظوری کے بعد، وزارتِ خزانہ کی ٹیم 10 جون سے قبل ’آئی ایم ایف‘ حکام کو ان سفارشات سے آگاہ کرے گی اور انہیں بجٹ کا حصہ بنانے کے لیے باقاعدہ منظوری حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔
معاشی ماہرین کیا کہتے ہیں؟
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ نمایاں طور پر بڑھا ہے، جس کے باعث متوسط طبقے کی قوتِ خرید شدید متاثر ہوئی ہے۔ ایسے میں اگر حکومت انکم ٹیکس کی شرح میں کمی لانے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو اس سے لاکھوں ملازمین کو بڑا مالی ریلیف مل سکے گا۔
مزید پڑھیں:پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پاگیا، 1.2 ارب ڈالر ملیں گے
تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ ’آئی ایم ایف‘ کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی اور بجٹ تجاویز پر اتفاقِ رائے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ چند روز میں جاری مشاورت مکمل ہونے کے بعد اس کا واضح اعلان کر دیا جائے گا۔













