ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی سے تعلق رکھنے والے ایک بے روزگار نوجوان نے شدید مایوسی اور طویل عرصے کی ناکامی کے بعد کوئٹہ میں پریس کلب کے باہر اپنے تعلیمی اسناد جلا کر احتجاج ریکارڈ کرایا۔ واقعے نے شہریوں اور سوشل حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔
قائم خان نامی نوجوان نے دعویٰ کیا کہ وہ گریجویشن مکمل کرنے کے باوجود طویل عرصے سے روزگار کے حصول میں ناکام رہا ہے اور اب عمر بھی نوکری کے لیے مقررہ حد سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے بلوچستان میں متعدد محکموں اور اداروں میں ملازمت کے لیے درخواستیں دیں، تاہم کہیں بھی اسے موقع نہیں دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:ایک کروڑ نوکریاں، مہنگائی و بیروزگاری میں کمی، ’پاکستان کو نوازدو‘ کے نام سے ن لیگ کا منشور جاری
احتجاج کے دوران قائم خان نے الزام عائد کیا کہ مختلف سرکاری محکموں میں نہ صرف سفارش اور میرٹ کی خلاف ورزی عام ہے بلکہ بعض جگہوں پر نوکری کے بدلے پیسے بھی طلب کیے جاتے ہیں۔ اس کے مطابق یہی صورتحال نوجوانوں کے لیے مایوسی اور محرومی کا سبب بن رہی ہے۔
پریس کلب کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نوجوان نے کہا کہ وہ اب مکمل طور پر مایوس ہو چکا ہے اور اسی باعث اسے اپنے تعلیمی اسناد جلانے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس نے کہا کہ یہ اسناد صرف کاغذ نہیں بلکہ اس کی تقریباً 20 سالہ محنت اور جدوجہد کی علامت تھیں۔
قائم خان نے حکومت سے اپیل کی کہ نوجوانوں کے مسائل پر فوری توجہ دی جائے اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر روزگار کی منصفانہ تقسیم نہ ہوئی تو نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی مزید سنگین صورتحال اختیار کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کے ٹیرف سے بھارت میں بڑے پیمانے پر بیروزگاری کا خدشہ
نوجوان نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ وہ وڈیرہ شاہی کے بجائے عام اور بے روزگار نوجوانوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔
واقعے کے بعد علاقے میں نوجوانوں کی بے روزگاری اور سرکاری ملازمتوں کے نظام پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔














