دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں 2026 کے پہلے 6 ماہ کے دوران ٹیکنالوجی کا شعبہ نمایاں فاتح بن کر سامنے آیا تاہم دلچسپ بات یہ رہی کہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اگرچہ مضبوط کارکردگی دکھائی لیکن کئی بین الاقوامی حریف کمپنیوں نے ان سے کہیں زیادہ منافع حاصل کیا۔
یہ بھی پڑھیں: غیر یقینی عالمی صورتحال اور مہنگی مانیٹری پالیسی، اسٹاک مارکیٹ منفی زون میں
سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی اشاریے بتاتے ہیں کہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کی بڑی اور درمیانی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مشتمل ایم ایس سی آئی انڈیکس نے سال کے پہلے نصف میں 90 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا جو تمام علاقائی ٹیکنالوجی انڈیکسز میں سب سے بہتر کارکردگی تھی۔
یورپی ٹیکنالوجی انڈیکس میں 44.8 فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ امریکی ٹیکنالوجی انڈیکس جس میں این ویڈیا، ایپل، مائیکروسافٹ، براڈکام اور مائکرون جیسی بڑی کمپنیاں شامل ہیں صرف 19.4 فیصد اضافے کے ساتھ پیچھے رہا۔
اسی رجحان کا مشاہدہ دیگر مارکیٹوں میں بھی کیا گیا۔ یورپ کے اسٹاکس 600 ٹیکنالوجی انڈیکس میں جنوری سے جون تک 23.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ امریکی ایس اینڈ پی 500 انفارمیشن ٹیکنالوجی انڈیکس نے اسی عرصے میں 19.4 فیصد منافع دیا۔
ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مشتمل امریکی نیسڈیک 100 انڈیکس جس میں این ویڈیا، ایپل، مائیکروسافٹ اور الفابیٹ جیسی کمپنیاں شامل ہیں نے بھی پہلے 6 ماہ میں تقریباً 19.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔
اس کے مقابلے میں امریکی ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 9.55 فیصد، نیسڈیک کمپوزٹ میں 12.79 فیصد اور ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج میں 8.85 فیصد اضافہ ہوا۔ وال اسٹریٹ کے تینوں بڑے انڈیکسز کو دنیا کے مختلف خطوں کی متعدد بڑی مارکیٹوں نے پیچھے چھوڑ دیا۔
ابھرتی ہوئی معیشتوں کی مجموعی کارکردگی بھی مضبوط رہی جہاں ایم ایس سی آئی ایمرجنگ مارکیٹس انڈیکس میں 24 فیصد اضافہ ہوا۔ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس نے 101.1 فیصد کی غیرمعمولی چھلانگ لگائی جبکہ جاپان کے نکیئی 225 انڈیکس میں تقریباً 39 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یورپ میں مجموعی اسٹاکس 600 انڈیکس 8 فیصد سے زائد بڑھا، جبکہ برطانیہ کے ایف ٹی ایس ای 100 انڈیکس میں 5.7 فیصد اضافہ ہوا۔ جرمنی کے ڈیکس انڈیکس میں تقریباً 1.9 فیصد اور فرانس کے سی اے سی 40 انڈیکس میں 3 فیصد سے کچھ زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔
مزید پڑھیے: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟
جنوبی یورپ کی مارکیٹوں نے خطے میں نمایاں کارکردگی دکھائی جہاں اسپین کے آئی بیکس 35 انڈیکس میں 12.5 فیصد، پرتگال کے پی ایس آئی انڈیکس میں 10.5 فیصد اور اٹلی کے ایف ٹی ایس ای ایم آئی بی انڈیکس میں 14.7 فیصد اضافہ ہوا۔
انفرادی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو این ویڈیا کے حصص کی قیمت میں سال کے پہلے نصف میں 7.3 فیصد اضافہ ہوا تاہم مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے ہونے والی پیشرفت اور مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے باعث کئی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ مثال کے طور پر مائیکروسافٹ کے حصص کی مالیت میں 22.9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب ایشیا اور یورپ میں سیمی کنڈکٹر شعبے کی غیرمعمولی کارکردگی نے ٹیکنالوجی اسٹاکس کو تقویت دی۔ تائیوان کی کمپنی ٹی ایس ایم سی کے حصص میں 55.5 فیصد اضافہ ہوا جبکہ جنوبی کوریا کی ایس کے ہائنکس کے حصص تقریباً 300 فیصد تک بڑھ گئے۔
مزید پڑھیں: نئے مالی سال کا شاندار آغاز، اسٹاک ایکسچینج ایک لاکھ 83 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا
اسی طرح نیدرلینڈز کی سیمی کنڈکٹر آلات تیار کرنے والی کمپنیوں اے ایس ایم آئی اور اے ایس ایم ایل کے حصص میں بالترتیب 93.3 فیصد اور 86.8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ بی ای سیمی کنڈکٹر کے حصص کی مالیت دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی۔














