’پولیس سے بچا کھجور میں اٹکا‘: ضدی ملزم کو پکڑنے کے لیے درخت کاٹنا پڑگیا

جمعرات 11 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب کے ضلع ڈی جی خان کی تحصیل کوٹ چھٹہ میں پولیس کارروائی کے دوران ایک ملزم گرفتاری سے بچنے کے لیے تقریباً 80 فٹ بلند کھجور کے درخت پر چڑھ گیا جس کے باعث علاقے میں غیرمعمولی صورتحال پیدا ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ڈی جی خان دہشتگردی کی بڑی کارروائی سے بچ گیا

میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے بتایا کہ ملزم نے درخت پر چڑھنے کے بعد نیچے اترنے سے صاف انکار کر دیا۔ متعدد کوششوں کے باوجود جب وہ نیچے آنے پر آمادہ نہ ہوا تو اسے بحفاظت اتارنے کے لیے ریسکیو اہلکاروں کی مدد طلب کی گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیم نے ملزم کو سمجھا بجھا کر نیچے لانے کی کوشش کی تاہم اس نے تعاون کرنے کے بجائے مزاحمت جاری رکھی جس کے باعث کارروائی کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔

صورتحال طول پکڑنے پر متعلقہ اداروں نے درخت کو کاٹنے کا فیصلہ کیا۔ درخت گرنے کے بعد ملزم ایک شاخ کے ساتھ زمین پر آ گرا جسے فوری طور پر تحویل میں لے لیا گیا۔

مزید پڑھیے: ڈی جی خان میں سی ٹی دی اور دہشتگردوں میں مقابلہ، 2 دہشتگرد ہلاک

پولیس کے مطابق ملزم کو گرفتار کر کے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لاہور: حبیب جالب کی بیٹی کا ڈھابہ ہٹانے پر تنازع، انتظامیہ نے ماڈل ریڑھی دینے کی یقین دہانی کرا دی

ایشین کرکٹ کونسل الیکشن، تاریخ رقم ہو گئی، بھارت کو شکست، پاکستان نے تینوں نشستیں جیت لیں

تیزاب حملے کا شکار ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے لیے بڑا اعزاز، اہم سڑک ان کے نام سے منسوب کردی گئی

آزاد کشمیر کے نئے وزیر اعظم کے نام پر نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز کی مشاورت

بھارت میں اسکول کی عمارت نہ بننے پر بچوں کا احتجاج، کلاسز میں جانے سے انکار

ویڈیو

ٹرمپ کی ایران کیخلاف معاشی جنگ تیز کرنے کی تیاری، تہران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی پبلک سیفٹی ایپ، خصوصی افراد کے لیے مؤثر سہولت

میدان میں حریف کھلاڑی کو تھپڑ مارنے پر سپر اسٹار لیونل میسی پر جرمانہ عائد

کالم / تجزیہ

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟