آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی کی تجویز زیر غور، مہتاب حیدر

جمعہ 12 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت آج مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کرے گی جس میں تنخواہ دار طبقے، کاروباری برادری اور کارپوریٹ سیکٹر کو ریلیف دینے سے متعلق متعدد تجاویز متوقع ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑے ریلیف کا امکان، انکم ٹیکس شرحوں میں کمی زیر غور

ماہرِ معیشت اور سینیئر صحافی مہتاب حیدر کے مطابق بجٹ سازی کے عمل میں حکومت کو اس وقت ایک اہم کامیابی حاصل ہوئی جب صوبوں نے تقریباً 920 ارب روپے کا اضافی سرپلس وفاق کو منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ ان کے بقول اگر یہ مالی گنجائش دستیاب نہ ہوتی تو بجٹ کی سمت مختلف ہو سکتی تھی، تاہم اضافی مالی اسپیس ملنے کے بعد حکومت کو بعض شعبوں میں ٹیکس ریلیف دینے کا موقع ملا ہے۔

مہتاب حیدر کے مطابق تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس سلیبز میں ردوبدل اور متوسط آمدنی والے طبقے کے ٹیکس میں تقریباً 5 فیصد کمی کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ بعض آمدنی کے درجوں میں اس سے بھی زیادہ ریلیف دیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 8 سے 10 فیصد اضافے کی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کاروباری برادری، رسمی کارپوریٹ سیکٹر اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے کے لیے بھی بعض ٹیکسوں میں نرمی پر غور کر رہی ہے، تاہم ان اقدامات کی حتمی منظوری کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات ابھی جاری ہیں۔

مزید پڑھیے: بجٹ میں عوامی فلاح، صوبوں کے حقوق اور معاشی استحکام کو ترجیح دی جائے، صدر مملکت کی وزیراعظم سے گفتگو

دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو آئندہ مالی سال کے لیے تقریباً 14.3 کھرب روپے کا ٹیکس ہدف دیے جانے کا امکان ہے، جسے حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج تصور کیا جا رہا ہے۔

آٹو سیکٹر کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہائبرڈ گاڑیوں پر دی گئی ٹیکس مراعات ختم ہونے کے بعد ان پر سیلز ٹیکس کی شرح 18 فیصد تک لانے کی تجویز زیر غور ہے۔ جبکہ سولر پینلز پر عائد 10 فیصد ٹیکس برقرار رکھنے کے لیے حکومت نے آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ بجٹ تقریر میں متوقع ہے۔

معاشی کارکردگی پر گفتگو کرتے ہوئے مہتاب حیدر نے کہا کہ حکومت رواں مالی سال کے 4.2 فیصد شرحِ نمو کے ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور ابتدائی اندازوں کے مطابق معاشی نمو 3.7 فیصد رہی۔ ان کے مطابق سرحدی کشیدگی، سیلابی صورتحال اور خطے میں جاری جغرافیائی و سیاسی تناؤ جیسے عوامل نے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے۔

مزید پڑھیں: بجٹ 27-2026: گزشتہ بجٹ کے مقابلے میں اس بار عوام کو کون سے ریلیف فراہم کیے جا سکتے ہیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی میں نمایاں کمی کے بعد حالیہ مہینوں میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں افراطِ زر ایک بار پھر دو ہندسوں میں داخل ہو گئی۔ ان کے بقول اس صورتحال کے اثرات پالیسی ریٹ، سرمایہ کاری کے رجحانات اور مجموعی معاشی سرگرمیوں پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، کاروبار اور معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

راولاکوٹ دھرنے میں ٹی ٹی پی اور ایکشن کمیٹی کا مبینہ گٹھ جوڑ، پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان