کیا نفسیاتی تھراپی عمر کے کسی بھی مرحلے میں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے؟

جمعہ 12 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ نفسیاتی مشاورت یا تھراپی صرف نوجوانوں کے لیے ہوتی ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر رسیدہ افراد بھی اس سے نہ صرف فائدہ اٹھا سکتے ہیں بلکہ بعض اوقات انہیں اس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خوشی، محبت و دیگر جذبات کے ہارمونز کونسے، یہ ہمارے دماغ پر کیسے حکومت کرتے ہیں؟

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق 70 سالہ موریزیو نے حال ہی میں تھراپی کا آغاز کیا تاکہ وہ بچپن سے لاحق شدید سر درد کی وجہ کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ انہیں 7 برس کی عمر سے مائیگرین کی شکایت رہی ہے اور برسوں تک مختلف ڈاکٹروں سے رجوع کرنے کے باوجود وہ اس مسئلے کی اصل وجہ جاننے کی کوشش کرتے رہے۔

موریزیو کے مطابق اگرچہ انہیں سر درد کی کوئی ایک واضح وجہ نہیں مل سکی لیکن تھراپی نے انہیں اپنی زندگی اور جذبات کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔

اسی طرح 73 سالہ انتونیو اور ان کی 68 سالہ اہلیہ گیگلیولا نے اپنے ازدواجی تعلق کو بچانے کی امید میں تھراپی اختیار کی۔ دونوں کے مطابق برسوں سے جمع ہونے والی خاموشیوں اور غلط فہمیوں کو پہلی بار کھل کر بیان کرنے کا موقع ملا جس کے بعد ان کے تعلقات میں بہتری محسوس کی گئی۔

مزید پڑھیے: ’بلائنڈ سائیڈ ڈائیورس‘: اس عمل کا بڑھتا رجحان جدید رشتوں کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟

ان مثالوں سے ایک عام تصور کو چیلنج کیا جا رہا ہے کہ تھراپی صرف نوجوانوں کے لیے مؤثر ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بڑھتی عمر کے ساتھ بھی نفسیاتی مشاورت کے فوائد کم نہیں ہوتے۔

عمر رسیدہ افراد اور ذہنی صحت

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 70 برس سے زائد عمر کے تقریباً 14 فیصد افراد کسی نہ کسی ذہنی مسئلے، خصوصاً بے چینی یا ڈپریشن، کا شکار ہوتے ہیں۔ اس عمر کے افراد میں خودکشی کے واقعات بھی مجموعی تعداد کا تقریباً 17 فیصد بنتے ہیں۔

اس کے باوجود تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ 65 برس یا اس سے زیادہ عمر کے صرف 4 فیصد افراد ہی نفسیاتی علاج یا تھراپی حاصل کرتے ہیں جبکہ نوجوانوں میں یہ شرح کہیں زیادہ ہے۔

نیدرلینڈز کی فری یونیورسٹی ایمسٹرڈیم کے پروفیسر پِم کائپرز کے مطابق دستیاب شواہد یہ ثابت نہیں کرتے کہ تھراپی بڑھتی عمر میں کم مؤثر ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نفسیاتی علاج بالغ زندگی کے ہر مرحلے میں فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

حالیہ تحقیقی جائزوں کے مطابق 75 سال سے زائد عمر کے افراد میں بھی تھراپی کے نتائج مثبت رہے ہیں اور ان میں کسی نمایاں کمی کا ثبوت نہیں ملا۔

بڑھتی عمر کے مسائل سے نمٹنے میں مدد

ماہرین کا کہنا ہے کہ تھراپی عمر رسیدہ افراد کو تنہائی، دائمی بیماریوں، سماجی دباؤ اور زندگی میں آنے والی بڑی تبدیلیوں سے نمٹنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: پیاروں کے زندہ دفن ہوجانے کا خوف، انسانوں کی عجیب و غریب احتیاطی تدابیر

بہت سے افراد نے تھراپی کے بعد زندگی میں نئی دلچسپی، بہتر ذہنی سکون، سماجی روابط میں اضافہ اور روزمرہ سرگرمیوں میں زیادہ شمولیت کی اطلاع دی۔

تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گروپ تھراپی بعض اوقات زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس میں افراد کو اپنے جیسے تجربات رکھنے والوں سے ملنے اور جذبات بانٹنے کا موقع ملتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جو عمر رسیدہ افراد تھراپی شروع کرتے ہیں وہ اکثر نوجوانوں کے مقابلے میں علاج مکمل کرنے کے لیے زیادہ پُرعزم ہوتے ہیں۔

تھراپی تک رسائی میں رکاوٹیں

ماہرین کے مطابق عمر رسیدہ افراد کے تھراپی سے دور رہنے کی کئی وجوہات ہیں۔ بعض اوقات علاج کے اخراجات یا انشورنس کی عدم دستیابی مسئلہ بنتی ہے، جبکہ کئی مرتبہ خود طبی نظام میں موجود رویے بھی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔

کچھ ڈاکٹر ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کو بڑھاپے کا فطری حصہ سمجھ لیتے ہیں اور مریض کو نفسیاتی مدد کے لیے ریفر نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھیے: اب آپ کا کتا زیادہ عرصہ آپ کے ساتھ رہ سکتا ہے، نئی دوا نے سب کو حیران کر دیا

علاوہ ازیں خود عمر رسیدہ افراد بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ذہنی مسائل بڑھتی عمر کا لازمی نتیجہ ہیں اور ان کے علاج کی ضرورت نہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ سوچ دراصل عمر پر مبنی تعصب کا حصہ ہے جو خود ذہنی مسائل میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

سیکھنے اور بدلنے کا عمل کبھی نہیں رکتا

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ زندگی کے آخری مراحل تک انسان سیکھنے، بدلنے اور خود کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

موریزیو کا کہنا ہے کہ تھراپی نے انہیں ازدواجی علیحدگی، بچوں کے ساتھ تعلقات اور ملازمت سے ریٹائرمنٹ جیسے اہم مراحل میں خود کو سنبھالنے میں مدد دی۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا کہ زندگی میں کسی بھی مثبت تبدیلی کے لیے بہت دیر ہو چکی ہے۔

مزید پڑھیں: لوگوں کے نام دماغ سے جلدی نکل جاتے ہیں تو یہ آسان ورزش کرلیں

ماہرین کا بھی یہی مؤقف ہے کہ ذہنی صحت کا خیال رکھنے اور مدد حاصل کرنے کے لیے کوئی عمر مقرر نہیں۔ اگر ضرورت محسوس ہو تو زندگی کے کسی بھی مرحلے میں تھراپی ایک مؤثر اور فائدہ مند ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جرمن نشریاتی ادارے کا پاکستان مخالف دستاویزی فلم پرشدید ردعمل، مشاہد حسین، طلعت حسین اور خواجہ آصف کی کڑی تنقید

شدید گرمی ذہن کو بھی متاثر کرتی ہے، ماہرین نے ’ہیٹ ویو اینگزائٹی‘ سے نمٹنے کے طریقے بتا دیے

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

اوپن اے آئی کے تجرباتی ماڈلز خو ہی ہیکر بن گئے، حقیقت کیا ہے؟

ویڈیو

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

جنوبی افریقہ میں فائرنگ کا واقعہ، 2 سگے بھائیوں سمیت 4 پاکستانی جاں بحق، پولیس نے تحقیقات کا آغاز کردیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان