وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں ویپنگ اور الیکٹرانک سگریٹ سے متعلق مصنوعات پر ٹیکسوں میں نمایاں اضافہ کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے، جس کے نتیجے میں ان مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق الیکٹرانک سگریٹ میں استعمال ہونے والے ای-لیکوڈ پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو 10 ہزار روپے فی کلوگرام سے بڑھا کر 16 ہزار 500 روپے فی کلوگرام کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بجٹ 27-2026: دفاعی بجٹ 3 ہزار ارب روپے کرنے کی تجویز، 18 فیصد اضافہ
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد محصولات میں اضافہ، شعبے کی مؤثر ریگولیشن اور تمباکو سے متعلق مصنوعات کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
ٹیکس کا نیا فریم ورک اور درآمدی ٹیرف کی تبدیلی
حکومت نے ویپ، ای سگریٹ اور ان سے وابستہ فلیورنگ مصنوعات پر بھی ڈیوٹیوں میں اضافہ کیا ہے، جبکہ الیکٹرانک نکوٹین ڈلیوری سسٹمز اور ان میں استعمال ہونے والی فلیورڈ کارٹریجز اور مائع مصنوعات کے لیے ٹیکس کا نیا فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:بجٹ 27-2026: اعلیٰ تعلیم کے لیے 46 ارب اور سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے 3.6 ارب روپے مختص
بجٹ دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ای سگریٹ مصنوعات پر پہلے سے نافذ زیادہ ریٹیل قیمت کی بنیاد پر عائد 65 فیصد تک درآمدی ٹیرف ختم کر دیا گیا ہے، تاہم ای-لیکوڈ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے سے مجموعی ٹیکس بوجھ بڑھ جائے گا۔
روایتی سگریٹ کے خام مال پر ڈیوٹی میں کمی
دوسری جانب حکومت نے عام سگریٹ کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال ’ایسیٹیٹ ٹو‘ پر عائد درآمدی ڈیوٹی میں کمی کی تجویز دی ہے، جس کے باعث روایتی سگریٹ کی پیداواری لاگت کم ہونے اور ان کی قیمتوں میں کمی کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
صارفین اور کاروباری شعبے پر اثرات
ماہرین کے مطابق ویپنگ مصنوعات پر بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کے نتیجے میں ان کی مارکیٹ قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے صارفین اور اس شعبے سے وابستہ کاروبار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔














