پاکستانی خود کو کتنا آزاد سمجھتے ہیں؟ پہلی قومی سروے رپورٹ جاری

پیر 15 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں آزادی، شہری حقوق اور طرزِ حکمرانی سے متعلق پہلی جامع قومی رپورٹ ’اسٹیٹ آف فریڈم رپورٹ پاکستان 2026‘ جاری کر دی گئی، جس میں سیاسی، معاشی، سماجی، قانونی اور ڈیجیٹل آزادیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کے پاکستان سے پارٹنر ادارے مشعل پاکستان کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ کی رونمائی انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (ISSI) میں منعقدہ تقریب میں کی گئی۔ تقریب میں وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک، سفارت کاروں، پارلیمنٹیرینز، ماہرین تعلیم، سول سوسائٹی اور میڈیا نمائندوں نے شرکت کی۔

مزید پڑھیں: 62 فیصد شہری پنجاب حکومت کی کارکردگی سے مطمئن، سروے رپورٹ جاری

رپورٹ کے مطابق 77 فیصد پاکستانی شہریوں کا خیال ہے کہ انہیں اپنی پسند کا پیشہ اختیار کرنے کی آزادی حاصل ہے، جبکہ 75 فیصد کا کہنا ہے کہ کاروبار غیر ضروری حکومتی مداخلت کے بغیر چلائے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح 75 فیصد افراد نے خواتین کے مواقع اور بااختیار بنانے کے حوالے سے مثبت رائے دی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 65 فیصد شہری مذہبی آزادی اور مذہبی تحفظات کے بارے میں مثبت تاثر رکھتے ہیں، جبکہ 69 فیصد کے نزدیک قومی منصوبہ بندی 5 سال سے زیادہ طویل مدت کے لیے ہونی چاہیے۔

تاہم 62 فیصد افراد کا ماننا ہے کہ عام شہریوں کا حکومتی فیصلوں پر اثر و رسوخ محدود ہے، جبکہ 58 فیصد نے اپنی مالی اور معاشی صورتحال کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ڈیجیٹل شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور ملک میں 19 کروڑ سے زائد موبائل کنکشنز، 14 سے 15 کروڑ براڈ بینڈ صارفین اور قریباً 7 کروڑ سوشل میڈیا صارفین موجود ہیں۔ آئی ٹی اور فری لانسنگ برآمدات سالانہ 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔

قانون و انصاف کے شعبے سے متعلق رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ملک کی عدالتوں میں 22 لاکھ سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں، جبکہ جیلوں میں ایک لاکھ 2 ہزار سے زیادہ قیدی موجود ہیں، جس سے انصاف کے نظام میں مزید اصلاحات کی ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی معاشی سمت درست قرار، سروے رپورٹ میں اعتراف

وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب شہریوں کی آواز سنی جائے، ادارے جوابدہ ہوں اور پالیسی سازی شواہد کی بنیاد پر کی جائے۔ انہوں نے رپورٹ کو قومی سطح پر بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کے فروغ کی جانب اہم قدم قرار دیا۔

رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، سائبر سیکیورٹی، غلط معلومات، بے روزگاری اور معاشی عدم مساوات کو مستقبل کے اہم چیلنجز قرار دیتے ہوئے ان پر فوری توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp