اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے آئندہ 2 ماہ کے لیے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ مہنگائی کے درمیانی مدت میں 5 سے 7 فیصد کے ہدف تک آنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟
پیر کو جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے اپنے سال کے چوتھے اجلاس میں شرحِ سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا جو مارکیٹ کی توقعات کے مطابق تھا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق حالیہ مثبت جغرافیائی و سیاسی پیشرفت کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی آئی ہے تاہم یہ اب بھی تنازع سے قبل کی سطح کے مقابلے میں بلند ہیں۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے اثرات اب ملکی معاشی اشاریوں میں بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
مرکزی بینک کے مطابق اپریل اور مئی کے دوران عمومی مہنگائی (ہیڈلائن انفلیشن) دوبارہ 2 ہندسوں (ڈبل ڈجیٹس) میں داخل ہوئی جبکہ بنیادی مہنگائی (کور انفلیشن) میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ اس کے ساتھ معاشی سرگرمیوں میں کچھ سست روی کے آثار سامنے آئے ہیں، جس کی وجہ بلند قیمتیں، مالیاتی کفایت شعاری اور معاشی غیر یقینی صورتحال قرار دی گئی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بیرونی کھاتوں پر دباؤ بدستور محدود ہے اور مجموعی معاشی منظرنامہ گزشتہ اجلاس کے مقابلے میں بڑی حد تک تبدیل نہیں ہوا۔ اسی بنیاد پر کمیٹی نے موجودہ مانیٹری پالیسی کو مہنگائی کو درمیانی مدت میں ہدفی حد تک لانے کے لیے مناسب قرار دیا۔
The Monetary Policy Committee decided to keep the policy rate unchanged at 11.5 percent in its meeting held on June 15, 2026.
For details: https://t.co/QmtBOmlMuF pic.twitter.com/QJaQwcOxo8— SBP (@StateBank_Pak) June 15, 2026
کمیٹی نے حالیہ معاشی پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے مالی سال 26-2025 کے لیے عارضی طور پر 3.7 فیصد جی ڈی پی نمو کا تخمینہ لگایا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق صارفین اور کاروباری شعبے کے اعتماد میں حالیہ سرویز کے مطابق معمولی بہتری آئی ہے جبکہ مہنگائی سے متعلق توقعات میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے۔
مزید پڑھیے: بجٹ 27-2026: ای سگریٹ اور ویپ مصنوعات پر ٹیکس میں بڑا اضافہ، قیمتیں بڑھنے کا امکان
اعلامیے میں بتایا گیا کہ آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت جائزوں کی کامیاب تکمیل اور فنڈز کی فراہمی کے باعث 5 جون 2026 تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
مرکزی بینک کے مطابق حکومت نے مالی سال 26-2025 کے لیے بنیادی مالیاتی سرپلس جی ڈی پی کے 2.5 فیصد کے برابر رہنے کا تخمینہ لگایا ہے جبکہ مالی سال 27-2026 کے لیے 2 فیصد سرپلس کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے اثرات دنیا کی مختلف معیشتوں پر پڑنا شروع ہو گئے ہیں اور کئی مرکزی بینکوں نے شرحِ سود میں اضافہ بھی کیا ہے۔
مہنگائی کے حوالے سے کمیٹی کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ماہ تک افراطِ زر دو ہندسوں میں رہ سکتی ہے تاہم بعد ازاں اس میں بتدریج کمی متوقع ہے۔
اسٹیٹ بینک نے خبردار کیا کہ مہنگائی کے منظرنامے کو جغرافیائی و سیاسی حالات، عالمی قیمتوں کے مقامی ایندھن کی قیمتوں پر اثرات، بجلی اور گیس کے نرخوں میں ممکنہ ردوبدل، مالیاتی نظم و ضبط میں ممکنہ کمزوری اور موسمی حالات کے باعث غذائی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جیسے عوامل متاثر کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں اسٹیٹ بینک نے شرحِ سود میں 100 بیسس پوائنٹس اضافہ کرتے ہوئے اسے 10.5 فیصد سے بڑھا کر 11.5 فیصد کر دیا تھا۔
The Monetary Policy Committee decided to keep the policy rate unchanged at 11.5 percent in its meeting held on June 15, 2026.#SBPMonetaryPolicy
— SBP (@StateBank_Pak) June 15, 2026
اس بار بیشتر معاشی ماہرین اور بروکریج ہاؤسز نے شرح سود برقرار رہنے کی پیشگوئی کی تھی۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سروے کے مطابق تقریباً نصف شرکا نے شرحِ سود میں کوئی تبدیلی نہ ہونے کی توقع ظاہر کی تھی، جبکہ باقی شرکاء شرحِ سود میں اضافے کے حق میں تھے۔
مزید پڑھیں: وفاقی بجٹ 27-2026 میں نان فائلرز کے لیے کیا بُری خبر ہے؟
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس نے بھی اپنی رائے میں کہا تھا کہ اگرچہ مہنگائی اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث شرح سود میں کمی قبل از وقت ہوگی تاہم تیل کی قیمتوں اور جغرافیائی کشیدگی میں نسبتاً کمی نے مزید اضافے کے امکانات بھی محدود کر دیے ہیں۔














