جولائی سے ستمبر تک ملک میں معمول سے کم بارشوں کا امکان، محکمہ موسمیات کی پیشگوئی

پیر 15 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے جولائی سے ستمبر تک ملک کے بیشتر علاقوں میں معمول سے کم بارشوں اور زیادہ درجہ حرارت کی اپنی پیش گوئی میں توسیع کردی ہے۔

محکمہ موسمیات کی 3 ماہ پر مشتمل موسمیاتی رپورٹ کے مطابق اس وقت بحرِ ہند کا ڈائپول غیر جانبدار مرحلے میں ہے اور توقع ہے کہ موسم کے دوران یہ بتدریج مثبت مرحلے میں داخل ہو جائےگا۔

دوسری جانب وسطیٰ اور مشرقی استوائی بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت مسلسل بڑھنے کا رجحان ظاہر کر رہا ہے، جو ایل نینو کی صورتحال کے فروغ کی نشاندہی کرتا ہے۔ عموماً ایل نینو کے اثرات پاکستان میں بارشوں میں کمی سے منسلک سمجھے جاتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ تخمینوں کے مطابق یہ گرم موسمی حالات جولائی تا ستمبر 2026 کے دوران برقرار رہنے کا امکان ہے اور موسم آگے بڑھنے کے ساتھ ان میں مزید شدت آ سکتی ہے۔

مثبت آئی او ڈی کے محدود اثرات

رپورٹ کے مطابق مثبت آئی او ڈی کی کیفیت عموماً پاکستان میں مون سون کے دوران معمول سے کچھ زیادہ بارشوں کا باعث بنتی ہے، تاہم مثبت آئی او ڈی کی متوقع تاخیر سے تشکیل کے باعث ملک بھر میں مجموعی مون سون بارشوں پر اس کے اثرات محدود رہ سکتے ہیں۔

بیشتر علاقوں میں معمول سے کم بارشوں کی پیش گوئی

محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق متوقع مدت کے دوران ملک کے بیشتر حصوں میں معمول کے مطابق یا معمول سے کم بارشوں کا عمومی رجحان برقرار رہے گا، جبکہ سب سے کم منفی انحراف شمال مشرقی پنجاب اور اس سے ملحقہ علاقوں میں متوقع ہے۔

بارشوں سے متعلق امکانی جائزے میں بھی ملک کے بیشتر علاقوں، بشمول پنجاب، سندھ، جنوبی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے زیادہ تر حصوں میں معمول سے کم بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

تاہم گلگت بلتستان، کشمیر اور بالائی خیبر پختونخوا میں معمول کے مطابق یا معمول سے کچھ زیادہ بارشیں متوقع ہیں۔

درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں اوسط درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی توقع ہے، جبکہ سب سے زیادہ اضافہ شمال مشرقی پنجاب اور مشرقی گلگت بلتستان میں متوقع ہے۔

درجہ حرارت سے متعلق امکانی جائزے کے مطابق بیشتر موسمیاتی ماڈلز نے ملک بھر میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کی پیش گوئی کی ہے، جس کا سب سے زیادہ امکان پنجاب کے بیشتر علاقوں، جنوبی خیبر پختونخوا، مشرقی بلوچستان اور مغربی سندھ میں ظاہر کیا گیا ہے۔

سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شمالی علاقوں میں معمول کے مطابق یا معمول سے کچھ زیادہ بارشوں کے باعث پہاڑی اور سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں میں اچانک آنے والے سیلاب (فلیش فلڈز) اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

اسی طرح چاروں صوبوں کے بڑے شہروں کے میدانی علاقوں میں شہری سیلاب یا اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی موجود ہے۔

برف پگھلنے کی رفتار میں اضافہ اور گلیشیائی جھیلوں کے خطرات

رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان، بالائی خیبر پختونخوا اور کشمیر میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت برف پگھلنے کے عمل کو تیز کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دریاؤں میں پانی کی آمد اور زیریں علاقوں میں بہاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ان علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

خریف فصلوں کو پانی کی قلت کا سامنا

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چاروں صوبوں میں معمول سے کم بارشوں کے باعث اہم خریف فصلوں، جن میں گنا، چاول، کپاس اور مکئی شامل ہیں، کو پانی کی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں آبپاشی کی ضرورت میں اضافہ ہوگا۔

ڈینگی اور دیگر موسمی خطرات

محکمہ موسمیات نے ڈینگی جیسی ویکٹر سے پھیلنے والی بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافے کے خدشے سے بھی خبردار کیا ہے۔

رپورٹ میں تیز ہواؤں، گرد آلود طوفانوں اور ژالہ باری کے خطرات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جو موسمی فصلوں، سبزیوں اور باغات کو متاثر کر سکتے ہیں۔

کاشتکاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی کھڑی فصلوں کے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

جنوبی پنجاب اور سندھ میں ہیٹ اسٹریس کا امکان

محکمہ موسمیات کے مطابق ملک بھر میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کے باعث موسم کے دوران وقفے وقفے سے شدید گرمی یا ہیٹ اسٹریس کی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔

تاہم شمالی بلند پہاڑی علاقوں میں معمول کے مطابق یا معمول سے کچھ زیادہ بارشیں ہیٹ ویو کی شدت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

بل بورڈز اور سولر تنصیبات کے تحفظ کی ہدایت

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ عرصے میں آندھی اور تیز ہواؤں کے واقعات میں اضافے کے پیش نظر بڑے شہری علاقوں میں نصب بل بورڈز کو یا تو ہٹا دیا جائے یا انہیں مزید مضبوط حفاظتی انتظامات کے ساتھ دوبارہ نصب کیا جائے تاکہ وہ شدید ہواؤں کا مقابلہ کر سکیں۔

اسی طرح سولر توانائی کے ڈھانچوں اور تنصیبات کے تحفظ کے لیے بھی پیشگی اقدامات کیے جائیں تاکہ ایسے موسمی واقعات کے دوران ممکنہ نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران امریکا معاہدے کے باوجود عالمی معیشت کو چیلنجز درپیش، آئی ایم ایف کا انتباہ

غلافِ کعبہ تبدیل، نئے غلاف میں کیا خاص ہے؟

کیا ٹیلر سوئفٹ اور ٹریوس کیلسی کی شادی کی تاریخ طے ہو گئی؟ نیویارک میئر ظہران ممدانی کا بیان زیرِ بحث

فیفا ورلڈ کپ: یوراگوئے، ایران اور بیلجیئم کو افتتاحی میچوں میں ڈراز کا سامنا

افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی عالمی امن کے لیے خطرہ، یورپی یونین کی پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت

ویڈیو

امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے، بلوچستان کے کاروبار پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات، نقصان عوام کا کیسے؟

ایران امریکا فریم ورک معاہدہ کیا ہے اور آئندہ ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں کیا طے ہو گا؟

کالم / تجزیہ

تاریخ کا رخ موڑنے والا ایک نیا اور سرخرو پاکستان

پنجاب کا حق، ایتھے رکھ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ