بانی پی ٹی آئی عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کی غرض سے گزشتہ رات اڈیالہ جیل سے پمز اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی آنکھ کے علاج کا 5واں مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیا گیا
پمز اسپتال انتظامیہ نے اس ضمن میں اعلامیہ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو آنکھ میں 5واں انٹرا وٹریئل انجیکشن لگایا گیا، علاج کے دوران اور اس کے بعد ان کی طبی حالت مستحکم رہی۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق او سی ٹی (Optical Coherence Tomography) رپورٹ میں اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی آنکھ کی حالت میں مزید بہتری ظاہر ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں واضح بہتری، میڈیکل بورڈ کی رپورٹ جاری
اعلامیے میں بتایا گیا کہ علاج مکمل ہونے کے بعد بانی پی ٹی آئی کو ضروری طبی ہدایات اور فالو اپ پلان کے ساتھ دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کی آنکھ کا علاج گزشتہ کئی ماہ سے مرحلہ وار جاری ہے اور اس سے قبل بھی انہیں متعدد مرتبہ پمز منتقل کر کے اینٹی وی ای جی ایف انجیکشنز لگائے جا چکے ہیں۔
اسپتال انٹظامیہ کے مطابق مذکورہ انجیکشن کے استعمال کے بعد سابق وزیر اعظم عمران خان کی بینائی میں بہتری رپورٹ کی گئی تھی۔
انٹرا وٹریئل انجیکشن کیا ہوتا ہے؟
انٹرا وٹریئل انجیکشن ایک خصوصی طبی طریقہ کار ہے جس میں دوا براہ راست آنکھ میں داخل کی جاتی ہے۔
یہ انجیکشن عموماً ان بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے جن میں آنکھ کے پردہ چشم یعنی ریٹینا کے نیچے غیر معمولی خون کی شریانیں بن جاتی ہیں یا آنکھ کے اندر سوجن پیدا ہو جاتی ہے۔
مزید پڑھیں: آنکھ کا مسئلہ یا کچھ اور؟ عمران خان کو پمز اسپتال لانے کے بعد کیا کچھ ہوتا رہا؟
طبی ماہرین کے مطابق ایسے مریضوں کو اکثر کئی ماہ تک وقفے وقفے سے متعدد انجیکشن لگانے پڑتے ہیں اور او سی ٹی اسکین کے ذریعے علاج کی پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
پمز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالیہ معائنے میں بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی حالت میں واضح بہتری کے آثار سامنے آئے ہیں اور ان کی مجموعی طبی حالت بھی اطمینان بخش رہی۔














