وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ملک میں امن و امان برقرار رکھنے اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے تمام مکاتب فکر کے علما کرام کا کردار انتہائی اہم ہے، جبکہ قومی پیغام امن کمیٹی کی خدمات لائق تحسین ہیں۔
قومی پیغام امن کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ اس فورم سے ملک بھر میں یکجہتی، رواداری اور بھائی چارے کا پیغام جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ پیغام امن کمیٹی کو ضلعی سطح تک فعال بنایا جائے تاکہ مذہبی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
مزید پڑھیں:وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ڈھاکا میں سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی قبر پر حاضری
وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں علما کرام کے فتوے اور بیانات سکیورٹی فورسز کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اسلامی تاریخ کی روشنی میں انتہا پسندی اور ریاست مخالف عناصر کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مساجد میں ایک ہی موضوع پر خطبات ریاست کا بیانیہ عوام تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوں گے۔
محسن نقوی نے کہا کہ باہمی جھگڑوں کا خاتمہ اپنی ذات پر توجہ مرکوز کرنے سے ہی ممکن ہے۔ علما کرام دوسرے مسالک اور مذاہب کے معاملات میں مداخلت سے گریز کریں کیونکہ دوسروں کی حدود میں مداخلت فساد اور اختلافات کو جنم دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کسی دوسرے مذہب یا عقیدے کی تضحیک کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ مذہبی ہم آہنگی اور قومی اتحاد کے فروغ کے لیے علما کرام کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور علما صرف مخصوص ایام ہی نہیں بلکہ پورا سال حکومتی اقدامات میں رہنمائی اور تعاون فراہم کریں۔
مزید پڑھیں:وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے دورہ افغانستان کے مقاصد کیا تھے؟
وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی تنازعات کے خاتمے میں کپتان کی طرح کلیدی کردار ادا کیا۔ قیادت کی بہترین حکمت عملی اور ٹیم ورک کے باعث پاکستان نے اہم سفارتی کامیابیاں حاصل کیں۔
انہوں نے کہا کہ بڑے ممالک کے درمیان صلح اور جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کوششیں تاریخ میں یاد رکھی جائیں گی اور وہ خود عالمی امن کے لیے کی جانے والی پاکستانی کاوشوں کے عینی شاہد ہیں۔














