پنجاب اسمبلی کی تاریخ بار اپوزیشن بجٹ کی کاپیاں نہ پھاڑ سکی۔
منگل کے روز پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس حسب معمول دیر سے شروع ہوا، پاکستان تحریک انصاف کے اراکین ، ہاتھ میں عمران خان کی رہائی کے پوسٹر اٹھاتے ہوئے اور نعرے مارتے ہوئے اسمبلی میں ایوان میں داخل ہوئے۔
ایوان میں تھوڑی بہت نعرے بازی کی لیکن جیسے ہی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز ایوان کے اندر داخل ہوئیں، اپوزیشن کی جانب سے نہ کوئی شور شرابہ کیا گیا اور نہ ہی نعرے بازی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:مالی سال 27-2026: پنجاب کا 5 ہزار 903 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش، تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی تجویز
پچھلے سال بجٹ اجلاس میں اپوزیشن نے شدید ہنگامہ آرائی کی تھی جس کی وجہ سےاسپیکر نے الیکشن کمیشن کو اپوزیشن کے 26 اراکین کو نا اہل کرنے کی دراخوست بھی کی تھی ، لیکن اسپیکر نے اپنی دارخوست اپوزیشن کی اس یقین دہانی پر واپس لے لی تھی کہ وہ وزیراعلیٰ کی اسمبلی میں موجودگی پرکوئی احتجاج نہیں کریں گے۔

اس دفعہ اپوزیشن نے حکومت سے کیا ہوا وعدہ وفا کیا، وزیراعلیٰ کی آمد پر اپوزیشن کی جانب سے کوئی ہنگامہ آرائی نہیں کی گئی، صوبائی وزیرخزانہ نے اپنی بجٹ تقریر شروع کی تو پی ٹی آئی کے کچھ اراکین نے عمران خان کے پوسٹر اٹھا کر نعرے بازی کی، مگر پہلی دفعہ صوبائی وزیر خزانہ نے کانوں پر ہیڈ فون لگائے بغیر اپنی بجٹ تقریر مکمل کی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی نے 5300 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دیدی
اپوزیشن ارکان نے زیادہ احتجاج کی کوشش نہیں کی، پہلی دفعہ پنجاب اسمبلی میں بجٹ کی کاپیاں نہیں پھاڑی گئیں اور نہ ہی حکومتی اراکین کی طرف پین اور پیپر حکومتی بینچوں کی طرف نہیں اچھالے گئے۔
اس دفعہ پنجاب اسمبلی میں پورپی یونین کی مدد سے لگائے گئے ٹیب پر پی ڈی فائل میں بجٹ دستاویزات دی گئی تھیں، جس کی وجہ سے اپوزیشن اراکین نہ تو بجٹ کاپیاں پھاڑ سکے اور نہ ہی ہنگامہ آرائی کی، بجٹ سیشن کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اراکین لائن بناکر ایوان میں ملتے رہے۔














