گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے لیے سرگرمیاں جاری، 4 آزاد ارکان استحکام پاکستان پارٹی میں شامل

منگل 16 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے بعد حکومت سازی کی سرگرمیوں نے نیا رخ اختیار کرلیا ہے، جہاں آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے 4 ارکان اسمبلی نے استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) میں شمولیت اختیار کرکے سیاسی منظرنامے کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔

آئی پی پی میں شامل ہونے والوں میں مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ امیدوار بھی شامل ہیں، جس کے بعد خطے میں سیاسی جوڑ توڑ اور حکومتی صف بندیوں پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

حالیہ انتخابات میں کامیاب ہونے والے 4 آزاد ارکان نے استحکام پاکستان پارٹی کے چیئرمین عبدالعلیم خان سے ملاقات کی، جس کے بعد انہوں نے باقاعدہ طور پر آئی پی پی میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔

استحکام پاکستان پارٹی کا حصہ بننے والوں میں ضلع گھانچے سے منتخب ہونے والے محمد انور اور ڈاکٹر اسد شفیق شامل ہیں، جبکہ حلقہ ایک دیامر سے کامیاب ہونے والے دلپذیر خان نے بھی آئی پی پی میں شمولیت اختیار کرلی۔

اس کے علاوہ ضلع غذر سے کامیاب ہونے والے آزاد امیدوار نے بھی عبدالعلیم خان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔

رپورٹس کے مطابق حلقہ جی بی اے 23 اور جی بی اے 24 سے کامیاب ہونے والے آزاد امیدواروں کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حمایت حاصل تھی، تاہم بعد ازاں انہوں نے استحکام پاکستان پارٹی کا حصہ بننے کو ترجیح دی۔

گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات میں مجموعی طور پر 7 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے تھے، جن میں سے 4 اب آئی پی پی میں شامل ہو چکے ہیں، جس سے خطے کی سیاسی بساط مزید تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل کر کے سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے اور اپنے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے مضبوط پوزیشن میں نظر آ رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کی کامیابی کے بعد حکومت سازی کے امکانات بھی اس کے حق میں دکھائی دے رہے ہیں۔

ادھر پاکستان مسلم لیگ (ن) نے واضح کر دیا ہے کہ وہ گلگت بلتستان میں حکومت سازی کی دوڑ میں شامل نہیں ہوگی۔ پارٹی قیادت نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے تحفظات اور سیاسی مشاورت کے بعد اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس فیصلے کے بعد گلگت بلتستان میں حکومت سازی کا عمل مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے اور سیاسی حلقوں کی نظریں آنے والے دنوں میں ہونے والی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp