اطالوی بچی کی خودکشی کے بعد میٹا اور ٹک ٹاک کیخلاف مقدمہ

بدھ 17 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اٹلی کی ایک ماں نے اپنی نوعمر بیٹی کی خودکشی کا سبب سوشل میڈیا پر موجود الگورتھمز کو قرار دیا ہے۔

ارینے روگیرو اُگوز نے انکشاف کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود الگورتھمز نے چند ہی مہینوں میں اس کی بیٹی کو خود کو نقصان پہنچانے سے متعلق مواد کی طرف مسلسل دھکیلا۔

جس کے نتیجے میں اس کی 12 سالہ بیٹی کی ذہنی حالت تیزی سے بگڑتی گئی اور جو پھر اس کی خودکشی پر منتج ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک سوشل میڈیا ایڈکشن کیس میں تصفیہ، میٹا اور یوٹیوب کیخلاف تاریخی مقدمہ جاری

12 سالہ روسیلا کی والدہ ارینے روگیرو اُگوز کے مطابق، ان کی بیٹی کا رویہ چند ماہ میں نمایاں طور پر بدل گیا تھا۔

بعد میں جب اس کے موبائل فونز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کھولے گئے تو معلوم ہوا کہ وہ والدین کی معلومات سے کہیں زیادہ وقت سوشل میڈیا پر گزار رہی تھی۔

روسلیلا نے ایک خفیہ انسٹاگرام اکاؤنٹ بھی بنایا ہوا تھا جس کا نام ’جسٹ آ ڈیڈ پرسن‘ تھا۔

روسلیلا نے ستمبر 2023 میں ڈپریشن اور خودکشی سے متعلق مواد تلاش کرنا شروع کیا، اور سوشل میڈیا کے الگورتھمز بار بار اسی نوعیت کا مواد اس کے سامنے لاتے رہے۔ 5 ماہ بعد اس نے خودکشی کرلی۔

ارینے روگیرو اُگوز کے مطابق، یہ سب ایک بیماری کی طرح تیزی سے پھیلتا گیا اور اس نے اس کی خوش مزاج شخصیت کو مکمل طور پر دبا دیا۔

یہ کیس اٹلی میں ایک اجتماعی مقدمے کا حصہ ہے جو میٹا اور ٹک ٹاک کے خلاف دائر کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹک ٹاک سوشل میڈیا ایڈکشن کیس میں تصفیہ، میٹا اور یوٹیوب کیخلاف تاریخی مقدمہ جاری

والدین کا مؤقف ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے الگورتھمز بچوں کو نقصان دہ مواد کی طرف مائل کرتے ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے سخت قوانین ضروری ہیں۔

دوسری جانب میٹا اور ٹک ٹاک نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نوجوانوں کی حفاظت کے لیے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں، نقصان دہ مواد ہٹایا جاتا ہے اور والدین کے لیے کنٹرول فیچرز بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی تجویز

مقدمے میں یہ بھی مؤقف اپنایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے لائکس اور نوٹیفکیشنز جیسے ریوارڈ سسٹمز دماغ میں ڈوپامین ریلیز کر کے لت جیسے اثرات پیدا کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یورپ اور امریکا میں سوشل میڈیا کے نوجوانوں پر اثرات کے حوالے سے بحث تیز ہو رہی ہے، اور اب کئی ممالک کم عمر صارفین کے لیے سخت قوانین پر غور کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp