پاکستان کے معروف گلوکار ابرار الحق نے بالی ووڈ پر اپنے مشہور گانے ’نچ پنجابن‘ کے غیر قانونی استعمال اور چوری کا الزام عائد کیا ہے۔
ابرار الحق نے حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ میں شرکت کی جس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا میں نے یہ گانا کبھی فروخت نہیں کیا تھا۔ انہوں نے خود ہی سمجھ لیا کہ انہیں حقوق حاصل ہیں۔ جب ہم نے سوال کیا تو انہوں نے ایک دلچسپ جواب دیا کہ اپنے دوست ہارون سے پوچھیں کیونکہ ہمیں یہ ان سے ملا ہے۔ میں نے کہا کہ میں نے یہ گانا ہارون کو دیا ہی نہیں یہ میری ملکیت ہے۔ انہوں نے پھر وہی بات دہرائی کہ ہارون سے ہی پوچھیں۔
View this post on Instagram
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں جعلی دستاویزات تیار کیے گئے اور ان کے دستخط بھی جعل سازی کے ذریعے استعمال کیے گئے کیونکہ وہاں قانونی کارروائی بہت مہنگی ہے۔ ان کے مطابق یہ رویہ صرف ان کے ساتھ نہیں بلکہ کئی دیگر فنکاروں کے ساتھ بھی اپنایا گیا ہے۔
ابرار الحق نے کہا کہ ہارون کا اس میں کوئی غلط کردار نہیں بلکہ انہوں نے بتایا کہ انہیں ایک بھارتی نمائندے نے کہا تھا کہ کسی اور کمپنی کی جانب سے ابرار الحق کے گانے کو غلط طریقے سے ریلیز کیا جا رہا ہے اس لیے انہیں کہا گیا کہ وہ تحریری طور پر لکھیں کہ گانا واپس لیا جا رہا ہے۔ تاہم اس خط کا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ گانے کے حقوق فروخت کر دیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ابرارالحق معروف گلوکار ہنی سنگھ کو خاتون کیوں سمجھتے رہے؟
انہوں نے کہا کہ حیرت انگیز طور پر اس گانے پر مبنی پوری فلم بنائی گئی اور اسے فروخت کیا گیا جو ان کے مطابق سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس معاملے پر قانونی کارروائی بھی شروع کر دی ہے اور کیس اس وقت زیر سماعت ہے۔
ابرار الحق نے مزید کہا کہ متعلقہ کمپنی (مووی باکس) اس معاملے میں ملوث ہے جو ممکنہ طور پر اپنا نام بھی تبدیل کر چکی ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک واضح اور سیدھا کیس ہے اور اگر تحریری معاہدہ دکھا دیا جائے تو حقوق ان کے ہوں گے بصورت دیگر کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ قانونی پیروی کا ہے جس میں بعض اوقات تاخیر ہو جاتی ہے۔














