رواں مالی سال 26-2025کے دوران پاکستان کی سروسز ایکسپورٹس (خدمات کی برآمدات) میں 18.81 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سے حاصل ہونے والی بڑھتی ہوئی آمدنی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خدمات کی برآمدات کا یہ مسلسل اضافہ اشیا کی برآمدات میں دیکھے جانے والے ملے جلے رجحان کے برعکس ہے۔
پاکستان کی معیشت طویل عرصے سے تجارتی خسارے کے دباؤ کا شکار رہی ہے، جس میں خدمات کے شعبے کو، خصوصاً انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سے منسلک صنعتوں کو، معیشت کے لیے ایک اہم امید کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مسائل کے باوجود ٹیکسٹائل صنعت کا نیا ریکارڈ، صرف ایک ماہ میں پاکستانی برآمدات 1.83 ارب ڈالر سے تجاوز
حالیہ برسوں میں حکومتی سطح پر فری لانسنگ، سافٹ ویئر ایکسپورٹ اور ڈیجیٹل خدمات کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں اور تازہ اعداد و شمار اس حکمتِ عملی کے مثبت نتائج کی عکاسی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
سالانہ بنیادوں پر برآمدات میں اضافہ
پاکستان بیورو آف شماریات کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق خدمات کی برآمدات مالی سال 2026 میں بڑھ کر 10.04 ارب ڈالر تک جا پہنچیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 8.45 ارب ڈالر تھیں۔
روپے کے حساب سے دیکھا جائے تو خدمات کی برآمدات میں 19.33 فیصد اضافہ ہوا اور یہ مالی سال 2025 کے 2.359 کھرب روپے سے بڑھ کر مالی سال 2026 میں 2.815 کھرب روپے تک جا پہنچیں۔
جون میں غیرمعمولی اضافہ
ماہانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو جون میں برآمدات میں 37.20 فیصد کا زبردست اضافہ دیکھا گیا اور یہ رقم 95.591 کروڑ ڈالر تک جا پہنچی، جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ صرف 69.66 کروڑ ڈالر تھی۔
مزید پڑھیں:برآمدات میں اضافے کے لیے متعلقہ صنعتوں کو سہولیات فراہم کی جائیں، وزیراعظم کی ہدایت
اس اضافے میں سب سے نمایاں کردار ٹیلی کمیونیکیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن خدمات کا رہا، جو مالی سال 26-2025کے دوران مسلسل سب سے بڑے شعبے کے طور پر سامنے آئیں۔
واضح رہے کہ مالی سال 2025 میں خدمات کی برآمدات میں 9.23 فیصد اضافہ ہوا تھا اور یہ مالی سال 2024 کے 7.68 ارب ڈالر سے بڑھ کر 8.39 ارب ڈالر تک پہنچی تھیں۔
آئی ٹی کا شعبہ سب سے آگے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق ٹیلی کمیونیکیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن خدمات کی برآمدات میں 20.42 فیصد اضافہ ہوا اور یہ گزشتہ سال کے 3.82 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2026 میں 4.60 ارب ڈالر تک جا پہنچیں۔
دیگر کاروباری خدمات کی برآمدات میں بھی 27.22 فیصد اضافہ دیکھا گیا اور یہ 1.69 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2.15 ارب ڈالر ہو گئیں۔
اس کے برعکس نقل و حمل کی خدمات کی برآمدات میں 6.61 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ مالی سال 2025 کے 99.9 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر 93.3 کروڑ ڈالر رہ گئیں۔
سیاحتی خدمات کی برآمدات میں سب سے نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جو 52.74 فیصد بڑھ کر 73 کروڑ ڈالر سے 1.115 ارب ڈالر تک جا پہنچیں۔
درآمدات میں بھی اضافہ
اسی دوران خدمات کی درآمدات میں بھی 5.67 فیصد اضافہ ہوا اور یہ مالی سال 2025 کے 11.29 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2026 میں 11.93 ارب ڈالر تک جا پہنچیں۔
مزید پڑھیں:پاکستان روس کی سی فوڈ مارکیٹ پہنچ گیا، 30 کروڑ ڈالر کی ابتدائی برآمدات کا امکان روشن
جون کے مہینے میں درآمدات میں 3.48 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے 90.14 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 93.281 کروڑ ڈالر ہو گئیں۔
نقل و حمل کے شعبے نے مالی سال 2026 میں خدمات کی درآمدات میں سب سے بڑا حصہ ڈالا، جس کی مالیت گزشتہ سال کے 4.69 ارب ڈالر سے بڑھ کر 4.88 ارب ڈالر ہو گئی، یعنی اس میں 4.05 فیصد اضافہ ہوا۔
دوسرے نمبر پر سیاحتی خدمات کی درآمدات رہیں، جو مالی سال 2025 کے 2.41 ارب ڈالر سے 20.74 فیصد اضافے کے ساتھ بڑھ کر 2.91 ارب ڈالر تک جا پہنچیں۔
تجارتی خسارے میں نمایاں کمی
سب سے حوصلہ افزا بات یہ رہی کہ خدمات کے شعبے کا تجارتی خسارہ مالی سال 2026 میں 33.38 فیصد کم ہو کر 1.894 ارب ڈالر رہ گیا، جو گزشتہ مالی سال میں 2.843 ارب ڈالر تھا۔
یہ بھی پڑھیں:درآمدات پر انحصار کم کرکے برآمدات کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
ماہرین کے مطابق برآمدات میں مسلسل اضافے اور درآمدات پر نسبتاً قابو کے باعث خدمات کے شعبے کا خسارہ کم ہونا ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے، جو آئندہ مالی سال میں بھی برقرار رہنے کی توقع ہے۔














