وفاقی آئینی عدالت نے مبینہ غلط سرجری کے معاملے پر دائر اپیل میں پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن اور متعلقہ سرجن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ڈاکٹر طلال خورشید کی اپیل پر سماعت کی۔ دوران سماعت جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ متاثرہ ڈاکٹر کو کس نوعیت کی انجری ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور کی سونیا سے عائشہ بننے والی خاتون کیس کا فیصلہ، وفاقی آئینی عدالت نے والدین کی حوالگی کی درخواست خارج کردی
درخواستگزار کے وکیل احسان کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر طلال خورشید کا کندھا ایک حادثے میں بری طرح متاثر ہوا تھا، تاہم بعد ازاں ان کی غلط سرجری کی گئی۔ وکیل کے مطابق میڈیکل بورڈ نے قرار دیا کہ غلط سرجری کے بعد پاکستان میں علاج ممکن نہیں رہا، جس پر پنجاب حکومت نے فنڈز جاری کیے اور بیرون ملک دوبارہ سرجری کرائی گئی۔
وکیل درخواستگزار نے مؤقف اختیار کیا کہ غلط سرجری 2018 میں ہوئی، جبکہ ملکی اور غیرملکی ڈاکٹروں نے 2021 میں اس غلطی کا تعین کیا۔ ان کے مطابق جیسے ہی غلط سرجری کی تصدیق ہوئی، ہیلتھ کیئر کمیشن سے رجوع کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ
احسان کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ ہیلتھ کیئر کمیشن کے قواعد کے مطابق سرجری کے 60 روز کے اندر شکایت درج کرانا ضروری ہے، اسی بنیاد پر عدالتوں نے درخواستگزار کی اپیلیں خارج کیں اور کیس کو میرٹ پر نہیں سنا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام میڈیکل رپورٹس اور متعلقہ دستاویزات بھی اپیل کے ساتھ جمع کرائی گئی ہیں۔
سماعت کے دوران عدالت نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن اور متعلقہ سرجن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔














