گلگت بلتستان حتمی سرکار انتخابی نتائج کا اعلان، پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت قرار، حکومت سازی کی راہ ہموار

بدھ 17 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر نے تمام 24 انتخابی حلقوں کے حتمی نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی 11 نشستیں جیت کر اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) 6 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے بدھ کو اعلان کیا کہ 2 زیرِ التوا انتخابی درخواستوں پر فیصلوں کے بعد تمام حلقوں کے نتائج مکمل کر لیے گئے ہیں۔ جی بی اے-16 دیامر سے پیپلز پارٹی کے امیدوار عطااللہ اور جی بی اے-13 استور سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار رانا فرمان کو کامیاب قرار دیا گیا۔

پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت

حتمی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے 11 نشستیں حاصل کیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) 6 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔

یہ بھی پڑھیں:جی بی الیکشن میں پی ٹی آئی کے لیے بُری خبر، سہیل آفریدی کی اہم شخصیت سے ملاقات میں کیا طے پایا؟

استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) 4 آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد 4 نشستوں کے ساتھ تیسری بڑی پارلیمانی جماعت بن گئی۔ مجلس وحدت المسلمین نے ایک نشست حاصل کی، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی حمایت یافتہ 2 آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے۔

حلقہ وار اہم نتائج

پیپلز پارٹی کے گلگت بلتستان صدر امجد حسین ایڈووکیٹ جی بی اے-1 گلگت سے کامیاب ہوئے، جبکہ مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے صدر حافظ حفیظ الرحمن نے جی بی اے-2 گلگت میں کامیابی حاصل کی۔

تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار سہیل عباس شاہ اور نیک نام کریم بالترتیب جی بی اے-3 اور جی بی اے-6 سے منتخب ہوئے۔

پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے جی بی اے-4، جی بی اے-5، جی بی اے-7، جی بی اے-9، جی بی اے-10، جی بی اے-11، جی بی اے-16 اور جی بی اے-17 میں کامیابی حاصل کی، جبکہ مجلس وحدت المسلمین کے میثم کاظم جی بی اے-8 سے کامیاب قرار پائے۔

مسلم لیگ (ن) نے جی بی اے-13، جی بی اے-14، جی بی اے-18، جی بی اے-20 اور جی بی اے-22 کے علاوہ جی بی اے-2 میں بھی فتح حاصل کی۔

آزاد امیدواروں کی آئی پی پی میں شمولیت

جی بی اے-15، جی بی اے-21، جی بی اے-23 اور جی بی اے-24 سے منتخب ہونے والے 4 آزاد ارکان بعد ازاں استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہو گئے، جس کے بعد آئی پی پی اسمبلی میں تیسری بڑی جماعت بن گئی۔

مزید پڑھیں:بلاول بھٹو زرداری کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، آزاد کشمیر، جی بی الیکشن اور متوقع 28ویں ترمیم پر تبادلہ خیال

آئی پی پی میں شامل ہونے والے ارکان میں انور علی، ڈاکٹر اسد شفیق، محمد دلپذیر اور امان علی امیر شامل ہیں۔ ان ارکان نے پارٹی صدر اور وفاقی وزیر عبدالعلیم خان سے ملاقات کے بعد اپنی سیاسی وابستگی کا اعلان کیا۔

مخصوص نشستوں کی تقسیم باقی

چیف الیکشن کمشنر کے مطابق عام نشستوں کے انتخابی عمل کی تکمیل کے بعد خواتین اور ٹیکنوکریٹس کے لیے مختص نو مخصوص نشستوں کی تقسیم اسمبلی میں جماعتوں کی نمائندگی کے تناسب سے کی جائے گی۔ تمام قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد حتمی نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

انسانی حقوق کمیشن کے تحفظات

دوسری جانب انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے حالیہ انتخابی عمل پر بعض تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ اس نے انتخابی عمل کا مشاہدہ کیا تھا اور حتمی جائزہ دوبارہ گنتی اور نتائج کے مکمل انضمام کے بعد جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

کمیشن کے مطابق 5 حلقوں میں دوبارہ پولنگ کے فیصلے کو معطل کر کے فوری طور پر حتمی نتائج جاری کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن نے الیکشن کمیشن پر زور دیا کہ وہ اپنے فیصلوں کی قانونی اور حقائق پر مبنی وجوہات عوام کے سامنے واضح کرے اور تمام تنازعات کو شفاف اور قابلِ اعتماد طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جائے۔

حکومت سازی پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں اتفاق

وزیراعظم شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کو انتخابی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان اسمبلی میں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے گی، تاہم حکومت سازی کے لیے اس کے منتخب ارکان پیپلز پارٹی کی حمایت کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت: مودی نے اپوزیشن جماعتوں کی جیبیں خالی کردیں، الیکشن کیسے لڑیں گی؟

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مسلم لیگ (ن) حکومت کی تشکیل کے عمل میں پیپلز پارٹی کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے جمہوری روایات کا تسلسل قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ باہمی اتفاق رائے کے تحت گلگت بلتستان کے گورنر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدے مسلم لیگ (ن) کو دیے جائیں گے، جبکہ پیپلز پارٹی خطے کے عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کے حل کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp