پاکستان نے بھارتی ملکیت یا اس کے زیرانتظام چلنے والے تمام طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کی بندش میں مزید توسیع کر دی جو اب 24 جولائی صبح 4 بج کر 59 منٹ تک برقرار رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: خراب موسم کے باعث 3 پاکستانی پروازیں مختصر وقت کے لیے بھارتی فضائی حدود میں داخل
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹس ٹو ایئرمین (نوٹم) کے مطابق یہ پابندی تمام بھارتی رجسٹرڈ طیاروں پر لاگو ہوگی جن میں کمرشل اور فوجی طیارے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بھارتی ایئرلائنز کی جانب سے لیز پر حاصل کیے گئے طیارے بھی پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں کر سکیں گے۔
نوٹم کے مطابق توسیع شدہ پابندی 16 جون کی شام 5 بج کر 50 منٹ سے نافذ العمل ہو چکی ہے اور 24 جولائی تک برقرار رہے گی۔
پاکستان نے گزشتہ سال اپریل میں دوطرفہ کشیدگی کے دوران بھارتی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھی۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا تھا جب نئی دہلی نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے جواب میں پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں۔
مزید پڑھیے: پاکستانی فضائی حدود کی بندش، مہنگا تیل: بھارتی ہوابازی کی صنعت بند ہونے کے قریب
بعد ازاں 30 اپریل کو بھارت نے بھی پاکستانی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فضائی روابط شدید متاثر ہوئے۔
پہلگام حملے کے بعد مئی 2025 میں بھارت نے پاکستان کے مختلف شہروں پر بلااشتعال حملے کیے تھے جس کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج نے آپریشن ’بنیان مرصوص‘ شروع کیا اور متعدد بھارتی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
پاکستانی حکام کے مطابق اس دوران پاکستان نے بھارت کے 8 جنگی طیارے، جن میں 3 جدید رافیل طیارے بھی شامل تھے، مار گرائے جبکہ درجنوں ڈرونز بھی تباہ کیے گئے۔ بعد ازاں 10 مئی کو امریکا کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیاں رک گئیں۔
مزید پڑھیں: پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے بعد ایرانی جنگ نے بھارتی ایئرلائنز کے لیے دوہری مشکل کھڑی کردی
ماہرین کے مطابق فضائی حدود کی مسلسل بندش سے بھارتی ہوا بازی کی صنعت کو نمایاں مالی نقصان پہنچا ہے کیونکہ بھارتی پروازوں کو طویل متبادل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں جبکہ پاکستانی فضائی شعبے پر اس کے اثرات نسبتاً محدود رہے ہیں۔














