امریکی ریاست کیلیفورنا میں سلیکان ویلی کے ارب پتی سرمایہ کار اور پے پال کے سابق سی ای او پیٹر تھیل کی جانب سے 2006 میں قائم کردہ انتہائی خفیہ اور مخصوص نیٹ ورک ‘ڈائیلاگ’ کی رکنیت 20 سال بعد ایک ڈیٹا لیک کے نتیجے میں پبلک ہوگئی ہے۔
سوئس ہیکٹوسٹ ‘مایا ارسن کرائم’ کی جانب سے سامنے لائے جانے والے اور معروف ٹیکنالوجی جریدے ’وائرڈ‘ کی طرف سے تصدیق شدہ اس ڈیٹا لیک نے اس خفیہ سوسائٹی کے 222 ارکان کے ناموں کو بے نقاب کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی پراپرٹی لیکس: صدر زرداری کے بچوں، حسین نواز اور محسن نقوی کی اہلیہ سمیت متعدد پاکستانیوں کی جائیدادوں کا انکشاف
اس لیک نے دنیا بھر کے سیاسی اور دفاعی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے کیونکہ اس فہرست میں نیٹو کے اعلیٰ ترین فوجی کمانڈر، موجودہ امریکی سینیٹرز، اور ممتاز تعلیمی و کاروباری شخصیات کے نام شامل ہیں۔
حیرت انگیز طور پر یہ معلومات کسی بہت بڑی ہیکنگ کے بجائے ویب سائٹ کی ایک معمولی سیکیورٹی غلطی کی وجہ سے سامنے آئیں، جہاں رواں ماہ آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں ہونے والے سالانہ اجلاس کے شرکا کے نام ویب سائٹ کے ایچ ٹی ایم ایل کوڈ کے اندر ہی موجود تھے جنہیں کوئی بھی دیکھ سکتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق لیک ہونے والی دستاویزات میں نیٹو کے سپریم الائیڈ کمانڈر یورپ جنرل الیکسس گرینکیوچ، امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ، اور معروف سینیٹر ٹیڈ کروز کے نام شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کن الزامات کا سامنا ہے؟
اس کے علاوہ پائلنٹیر کے شریک بانی جو لونسڈیل، اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے صدر جوناتھن لیون، سینیٹر کوری بوکر، ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک اور معروف مصنف ایزرا کلین بھی اس نیٹ ورک کا حصہ پائے گئے ہیں، جبکہ تمام ارکان نے رجسٹریشن کے لیے سرکاری ای میلز کے بجائے اپنے ذاتی اکاؤنٹس استعمال کیے۔
اس خفیہ نیٹ ورک کے ایجنڈے اور سرگرمیوں نے بھی ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے کیونکہ اس کے باہمی اجلاسوں میں ‘تیسری عالمی جنگ سے نمٹنا’ اور ‘ایک نیا فرقہ بنانا’ جیسے انتہائی حساس اور عجیب و غریب موضوعات زیر بحث لائے جانے تھے۔
دستاویزات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سوسائٹی کے ارکان کے لیے آپس میں ایک مخصوص ڈیٹنگ ایپ بھی فعال ہے جو غیر معمولی لوگوں کو جوڑنے کا کام کرتی ہے اور ارکان سے ان کی محبت کی تلاش کے بارے میں سوالات کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایپسٹین کیس: بل اور ہلیری کلنٹن نے کھلی سماعت کا مطالبہ کر دیا
مزید برآں اس خفیہ فہرست میں ہر رکن کی سیاسی وابستگی اور ترجیحات کو بھی واضح طور پر نوٹ کیا گیا تھا، جسے مکمل طور پر خفیہ رکھنے کا معاہدہ تھا مگر اب وہ تمام معلومات پبلک ہوچکی ہیں۔














