امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے درمیان طے پانے والے نئے فریم ورک معاہدے نے 2015 کے تاریخی جوہری معاہدے سے متعلق بین الاقوامی بحث کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ان کی ایران کے ساتھ نئی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ سابق صدر براک اوباما کے دور میں طے پانے والے معاہدے سے کہیں بہتر ہے، جبکہ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ فریم ورک میں ایران کو زیادہ معاشی رعایتیں دی گئی ہیں اور اس کے بدلے امریکی مفادات کے لیے کم ضمانتیں حاصل کی گئی ہیں۔
فریم ورک اور مکمل معاہدے کی ساخت میں فرق
دستاویزی حجم کے لحاظ سے دونوں معاہدوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ موجودہ نیا معاہدہ دراصل ایک مختصر مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) ہے جو صرف 14 نکات اور تقریباً ڈیڑھ صفحے پر مشتمل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد مفاہمتی یادداشت، اسپیکر قومی اسمبلی کا تاریخی سفارتی کامیابی پر وزیراعظم کو خراجِ تحسین
اس کے برعکس، اوباما دور کا ’جوائنٹ کمپرہینسو پلان آف ایکشن‘ (جے سی پی او اے) ایک انتہائی تفصیلی دستاویز تھی جو 160 سے زیادہ صفحات پر محیط تھی۔
طریقہ کار کے لحاظ سے اوباما کا معاہدہ 2 سال کے طویل بین الاقوامی مذاکرات کا نتیجہ تھا جس میں امریکااور ایران کے علاوہ چین، فرانس، جرمنی، روس، برطانیہ اور یورپی یونین شامل تھے۔
جبکہ ٹرمپ نے کثیر الجہتی سفارت کاری کے بجائے صرف دو طرفہ مذاکرات کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ اس نئے فریم ورک کے تحت دونوں ممالک نے 60 روزہ مذاکراتی مدت کا آغاز کیا ہے تاکہ 4 ماہ سے جاری تنازع کا مستقل حل نکالا جا سکے۔
جوہری پروگرام پر شرائط اور نگرانی کا نظام
اگرچہ دونوں معاہدوں میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کا عزم دہرایا گیا ہے، مگر شرائط کی نوعیت مختلف ہے۔ 2015 کے معاہدے میں یورینیم کی افزودگی پر سخت ترین پابندیاں اور بین الاقوامی نگرانی کا ایک جامع اور ناقابلِ نفوذ نظام قائم کیا گیا تھا، جس پر ایران نے 2018 تک (جب ٹرمپ نے امریکاکو اس سے الگ کیا) مکمل عمل کیا۔
اس کے برعکس، ٹرمپ کے نئے معاہدے میں جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے محض ایک عمومی خاکہ پیش کیا گیا ہے اور ایران کی طرف سے کوئی واضح یا تفصیلی وعدہ شامل نہیں ہے۔ ہائی لیول افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے متعلق تنازع کے حتمی فیصلے کو آئندہ 60 دنوں کے مذاکرات پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
پابندیوں میں نرمی اور معاشی مراعات
پابندیوں کے خاتمے کا طریقہ کار بھی دونوں ادوار میں مختلف نظر آتا ہے۔ اوباما انتظامیہ نے ایران کو اس وقت تک کوئی معاشی ریلیف نہیں دیا تھا جب تک اس نے جوہری وعدوں پر عملدرآمد ثابت نہیں کر دیا، جس کے بعد مرحلہ وار پابندیاں ہٹائی گئیں۔
تاہم، ٹرمپ کے فریم ورک میں ابتدائی مرحلے پر ہی ایران کے لیے معاشی آسانیاں پیدا کرنے کی تجویز ہے، جس میں ایرانی تیل کی برآمدات کے لیے فوری امریکی چھوٹ اور منجمد اثاثوں میں سے اربوں ڈالر کی ممکنہ رہائی شامل ہے۔
مزید پڑھیں:دستخط شدہ ایران، امریکا ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے شق وار مندرجات سامنے آگئے
مزید برآں امریکااور اس کے مشرقِ وسطیٰ کے اتحادیوں کی جانب سے ایران کی معاشی ترقی کے لیے 300 ارب ڈالر کے ایک خطیر فنڈ کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے، جس کی تفصیلات آنا ابھی باقی ہیں۔
آبنائے ہرمز، علاقائی سلامتی کا نیا عنصر
نئے معاہدے کا ایک اور اہم ترین نکتہ ’آبنائے ہرمز‘ کی مکمل بحالی ہے۔ اوباما دور کا معاہدہ صرف جوہری پروگرام تک محدود تھا کیونکہ اس وقت کی انتظامیہ کا خیال تھا کہ علاقائی تنازعات کو شامل کرنے سے معاہدہ ناممکن ہو جائے گا۔
ٹرمپ کا نیا فریم ورک خطے کی وسیع تر سلامتی اور حالیہ جنگ کے خاتمے کو ٹارگٹ بناتا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق ایران اس اہم ترین تیل بردار گزرگاہ کے انتظام میں اپنے لیے ایک مستقل اور فعال کردار کا خواہاں ہے، جو آنے والے دنوں میں مذاکرات کی کامیابی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔
مستقبل کی غیر یقینی صورتحال
اگرچہ صدر ٹرمپ اس فریم ورک کو اپنی ایک بہت بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں، لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ اصل امتحان اب شروع ہوگا۔
اگلے 60 دنوں کے دوران ہونے والی تفصیلی گفتگو ہی یہ طے کرے گی کہ آیا یہ مختصر خاکہ ایک پائیدار اور جامع معاہدے کی شکل اختیار کر پائے گا یا 2015ء کا تفصیلی معاہدہ ہی جدید سفارت کاری کا معیار رہے گا۔














