امریکا کے شہر لاس اینجلس میں مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی ایک منفرد عجائب گھر قائم کیا گیا ہے جہاں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گھنے بارانی جنگلات (رین فاریسٹ) کے مناظر، آوازیں اور خوشبو کو ایک ہی جگہ محسوس کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلادیش کی جانب سے جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے خوبصورت اقدام
ڈیٹا لینڈ نامی اس میوزیم کی افتتاحی نمائش ’مشین ڈریمز: رین فاریسٹ‘ کے عنوان سے پیش کی گئی ہے جسے معروف ڈیجیٹل آرٹسٹ رفیق انادول اور افسن ارکیلیچ نے تخلیق کیا ہے۔ اس منصوبے میں ایک کروڑ سے زائد لائنز پر مشتمل کمپیوٹر کوڈ اور ڈیڑھ ارب پکسلز پر مبنی بصری نظام استعمال کیا گیا ہے۔
رفیق انادول کے مطابق انہیں یہ خیال برازیل کے ایمیزون کے جنگلات کے دورے کے بعد آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہر شخص کو رین فاریسٹ دیکھنے کی خواہش ہوتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ سب وہاں جائیں اس لیے انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ جنگل ہی لوگوں کے پاس لے آیا جائے تاکہ وہ فطرت سے جڑ سکیں اور اس کی اہمیت کو محسوس کر سکیں۔
نمائش کے دوران زائرین کی حرکات، دل کی دھڑکن، جسمانی درجہ حرارت اور جذبات کو جدید سینسرز کے ذریعے ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے انہیں طبی معیار کی اسمارٹ گھڑی نما ڈیوائس پہنائی جاتی ہے جبکہ ایک پورٹیبل خوشبو پھیلانے والا آلہ بھی دیا جاتا ہے تاکہ وہ جنگل کی خوشبو بھی محسوس کر سکیں۔
مزید پڑھیے: سعودی عرب : جزائر فرسان میں سیاحتی سرگرمیاں عروج پر، مینگروو جنگلات سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گئے
مصنوعی ذہانت اربوں تصاویر اور ڈیٹا پوائنٹس کی مدد سے ہر لمحہ بدلنے والا تجربہ تخلیق کرتی ہے جس کی وجہ سے ہر آنے والے شخص کا مشاہدہ گزشتہ فرد سے مختلف ہوتا ہے۔
افسن ارکیلیچ کے مطابق یہ نظام گویا ’خواب دیکھتا‘ ہے کیونکہ جیسے جیسے اسے نیا ڈیٹا ملتا ہے ویسے ویسے وہ اپنی کہانی اور بصری منظرنامے کو مسلسل تبدیل کرتا رہتا ہے۔ ان کے بقول یہ سائنسی عمل سے زیادہ ایک تخلیقی اور شاعرانہ انداز میں حقیقت کو دوبارہ تشکیل دینے کی کوشش ہے۔
نمائش کے اختتام پر زائرین مصنوعی ذہانت کی تخلیق کردہ منفرد ذائقوں والی چاکلیٹس چکھ سکتے ہیں جبکہ اپنی شرکت کی یادگار کے طور پر اے آئی کے تیار کردہ ڈیزائن والے ٹی شرٹس اور پینٹنگز بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ناسا کا دلچسپ ٹول: جنگلات، پہاڑوں پر اپنا نام لکھا دیکھیں
رفیق انادول کا کہنا ہے کہ اس تجربے کی خوبصورتی یہی ہے کہ مصنوعی ذہانت ہر وزیٹر کے جانے کے بعد اسے بھول جاتی ہے اور اگلے شخص کے لیے بالکل نیا اور منفرد تجربہ تخلیق کرتی ہے۔














