سعودی عرب کے جنوب مغربی ساحلی علاقے میں واقع فرسان جزائر عید الاضحیٰ کے دوران ماحولیاتی اور قدرتی سیاحت کے ایک بڑے مرکز کے طور پر تیزی سے ابھر رہے ہیں، جہاں مینگروو جنگلات اور سمندری مناظر سیاحوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب، 140 نایاب جانور قدرتی ماحول میں چھوڑ دیے گئے
میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کے فرسان جزائر میں واقع ’الکندل فاریسٹ‘ اس وقت عید کی تعطیلات کے دوران آنے والے سیاحوں کے لیے سب سے زیادہ پرکشش مقامات میں سے ایک بن چکا ہے۔ یہ علاقہ مینگروو درختوں کے گھنے جنگلات، پیچیدہ آبی راستوں اور قدرتی حیاتیاتی تنوع کے باعث اپنی منفرد پہچان رکھتا ہے۔
#Saudi Arabia’s #Farasan Islands are drawing #Eid holiday visitors with a growing array of ecotourism attractions. Al-Qandal’s mangrove waterways, dolphins and birdlife are helping transform the Red Sea archipelago into a flagship #Vision2030 destination. https://t.co/jKyP5Cwq22 pic.twitter.com/Hv9THvhQM2
— Arab News (@arabnews) May 30, 2026
الکندل فاریسٹ فرسان پورٹ سے تقریباً 16 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جہاں تنگ چٹانی راستوں سے گزرتے ہوئے سیاح کشادہ آبی گزرگاہوں اور سرسبز مینگروو جنگلات کا دلکش نظارہ کرتے ہیں۔ ان درختوں کی جڑیں نہ صرف ساحلی ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرتی ہیں بلکہ مختلف سمندری حیات اور پرندوں کے لیے محفوظ مسکن بھی فراہم کرتی ہیں۔
سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ خاص طور پر تعطیلات کے دوران ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جہاں مقامی ٹور آپریٹرز کے مطابق کشتیوں کے ذریعے سفر کرنے والے سیاح اکثر کھلے سمندر میں ڈولفن بھی دیکھتے ہیں، جو اس تجربے کو مزید یادگار بنا دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حیاتیاتی تنوع کا فروغ، سعودی عرب میں 35 نایاب جانوروں کی واپسی
رپورٹس کے مطابق سعودی ریڈ سی اتھارٹی اس علاقے میں سیاحتی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہی ہے تاکہ سیاحوں کی رسائی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے اور نازک ماحولیاتی نظام کو محفوظ رکھا جا سکے۔
الکندل فاریسٹ کے علاوہ فرسان جزائر میں دیگر قدرتی مقامات بھی سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہیں، جن میں ابو شریاح جزیرے کے سفید ریتیلے ساحل، گمہ جزیرے کے حیاتیاتی تنوع اور کشتیوں کے ذریعے ڈولفن دیکھنے کے مواقع شامل ہیں۔
سعودی عرب میں سیاحت کے فروغ کا یہ رجحان ’ویژن 2030‘ کے تحت تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کا مقصد ملک کی معیشت کو تیل پر انحصار سے کم کرنا اور سیاحت کو ایک اہم معاشی شعبہ بنانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت نہ صرف مذہبی سیاحت کو فروغ دیا جا رہا ہے بلکہ اب قدرتی اور ماحولیاتی سیاحت کو بھی خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
بين ممرات القندل المائية في جزر فرسان، تتحول الرحلة البحرية إلى تجربة بصرية هادئة تعانق فيها أشجار المانجروف البحر وسط إقبال متزايد من الزوار خلال إجازة العيد.https://t.co/EnkAIemugo pic.twitter.com/Qw6xDTIumO
— جريدة الرياض (@AlRiyadh) May 28, 2026
ماہرین کے مطابق پہلے جہاں سعودی عرب آنے والے زائرین کا زیادہ تر فوکس مکہ اور مدینہ تک محدود ہوتا تھا، اب بہتر انفراسٹرکچر اور نئے سیاحتی منصوبوں کے باعث وہ ملک کے دیگر خوبصورت مقامات کا بھی رخ کر رہے ہیں۔
فرسان جزائر کی تاریخی اہمیت بھی کم نہیں۔ مقامی بزرگوں کے مطابق ماضی میں حج کے لیے سفر کرنے والے لوگ انہی ساحلی علاقوں سے کشتیوں کے ذریعے جدہ کا طویل سفر کرتے تھے، جو ایمان، صبر اور امید کی ایک علامت سمجھا جاتا تھا۔
آج وہی خطہ جدید سیاحت، فطری مناظر اور ماحولیاتی حسن کے امتزاج کے ساتھ ایک نئی پہچان بنا رہا ہے، جہاں عید کے موقع پر آنے والے سیاح قدرتی خوبصورتی اور سمندری حیات کے دلکش مناظر سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔













