آزاد کشمیر کی سیاست میں حکومت سازی اور نئی کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے ایک اہم آئینی و قانونی بحث چھڑ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں حکومت سازی کا عمل کب شروع ہوگا؟ طارق فضل چوہدری کا اہم اعلان
وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی جانب سے 2 نومنتخب اراکین اسمبلی کو بطور وزیر نوٹیفائی کیے جانے کے اقدام پر سابق وزیراعظم اور سینیئر پارلیمنٹرین راجہ فاروق حیدر خان نے سوالات اٹھاتے ہوئے اسے آئین و قانون کے مغائر قرار دے دیا ہے۔
راجہ فاروق حیدر خان کا مؤقف سامنے آنے کے بعد بنیادی سوال یہ پیدا ہو گیا ہے کہ کیا نومنتخب اراکین اسمبلی کو اسمبلی کی حلف برداری اور دیگر آئینی مراحل کی تکمیل سے قبل بطور وزیر مقرر یا نوٹیفائی کیا جا سکتا ہے؟ اگر اس حوالے سے آئین، قانون یا قواعد میں کوئی واضح طریقہ کار موجود ہے تو اس کی روشنی میں فیصل ممتاز راٹھور کے اقدام کی قانونی حیثیت کیا بنتی ہے؟
مزید پڑھیے: آزاد کشمیر انتخابات کا تیسرا مرحلہ، ن لیگ کو 2 حلقوں میں برتری، سابق وزیراعظم سردار عتیق کو شکست
دوسری جانب یہ معاملہ محض 2 وزرا کی تقرری تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے آزاد کشمیر میں آئینی روایات، وزیراعظم کے اختیارات، کابینہ کی تشکیل اور نومنتخب اراکین کی آئینی حیثیت سے متعلق کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ موجودہ صورتحال میں سیاسی ضرورت اور آئینی تقاضوں کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے گا۔ اگر ایک جانب حکومت اس اقدام کو قانون کے مطابق قرار دیتی ہے تو دوسری جانب راجہ فاروق حیدر خان جیسے سینیئر پارلیمنٹرین اور ماہر آئین و قانون کی جانب سے اعتراض سامنے آنے کے بعد ضروری ہو گیا ہے کہ حکومت یا آزاد کشمیر کا متعلقہ آئینی ادارہ اس معاملے پر واضح قانونی مؤقف سامنے لائے۔
اہم سوال یہی ہے کہ فیصل ممتاز راٹھور نے آئین و قانون کے تمام تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے 2 اراکین اسمبلی کو وزیر مقرر کیا یا یہ اقدام آئینی طریقہ کار سے انحراف کے زمرے میں آتا ہے؟
اس معاملے پر واضح آئینی تشریح نہ ہونے کی صورت میں آنے والے دنوں میں یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک نئی آئینی و قانونی محاذ آرائی جنم لے سکتی ہے۔














