برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ نوجوان ہاروے مور نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ مافوق الفطرت مظاہر کی تحقیق کے دوران نہ صرف پراسرار سائے دیکھتے ہیں بلکہ بعض اوقات بھوتوں کی موجودگی کو خوشبو یا مخصوص مہک کے ذریعے محسوس بھی کر لیتے ہیں۔ ان کے اس دعوے نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی ہے تاہم ان دعوؤں کی آزاد سائنسی تصدیق موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا ملکی وے کے سرد ترین ستارے دراصل خلائی مخلوق کے بنائے ہوئے ڈھانچے ہیں؟ نئی تحقیق میں دلچسپ امکان کا جائزہ
برطانوی میڈیا کے مطابق ہاروے مور پیشے کے اعتبار سے الیکٹریشن کی تربیت حاصل کر چکے ہیں لیکن کورونا وبا کے دوران ٹک ٹاک پر مافوق الفطرت واقعات سے متعلق ویڈیوز دیکھنے کے بعد ان کی دلچسپی اس شعبے کی جانب بڑھ گئی اور اب وہ خود کو پیرانارمل (مافوق الفطرت) تحقیق کار قرار دیتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بچپن میں وہ اپنے والدین کے گھر کی اوپری منزل پر ایک سیاہ لباس میں ملبوس شخص کو بار بار ایک کمرے سے دوسرے کمرے کی طرف جاتے دیکھتے تھے جبکہ بعض اوقات انہیں نامعلوم قدموں کی آوازیں بھی سنائی دیتی تھیں۔
مزید پڑھیے: اڑن طشتری والی مخلوق کا تعلق کس سیارے سے ہے، انوکھا نقطہ نظر
ہاروے کے مطابق جب انہوں نے یہ بات اپنے والدین کو بتائی تو انہیں معلوم ہوا کہ اس مکان میں ماضی میں مذہبی شخصیات (پادری) رہائش پذیر رہی تھیں جس کے بعد ان کا یقین مزید مضبوط ہو گیا کہ اس دنیا کے علاوہ بھی کچھ موجود ہے۔
تحقیق کے دوران پراسرار آوازیں اور مہک
ہاروے کا کہنا ہے کہ وہ اب ایسی عمارتوں اور مقامات کا دورہ کرتے ہیں جنہیں مقامی لوگ آسیب زدہ یا بھوتوں سے منسوب کرتے ہیں۔
ان کے مطابق انہوں نے متعدد مواقع پر سفید دھند، سیاہ سایے اور اچانک ظاہر ہونے والی ایسی خوشبو یا مہک محسوس کی جس کی کوئی واضح وجہ موجود نہیں تھی۔
مزید پڑھیں: کیا خلائی مخلوق زمین کا سراغ ہوائی اڈوں کے ریڈار سگنلز سے لگا سکتی ہے؟ دلچسپ انکشاف
انہوں نے بتایا کہ تحقیق کے دوران بنائی گئی ویڈیوز کی ایڈیٹنگ کرتے وقت اکثر ایسی دستکوں، قدموں کی آوازوں یا کسی خاتون کے گنگنانے جیسی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں جو ریکارڈنگ کے وقت کسی نے نہیں سنی ہوتیں۔
17ویں صدی کے قبرستان میں عجیب تجربہ
ہاروے کے مطابق ان کے پسندیدہ تحقیقاتی مقامات میں ایک قدیم قبرستان بھی شامل ہے جو اب عوامی پارک میں تبدیل ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: چاند کی گرد میں خلائی مخلوق کی تہذیبوں کے آثار چھپے ہو سکتے ہیں، نئی تحقیق
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک تحقیق کے دوران انہوں نے ایک الیکٹرانک ’وائس باکس‘ استعمال کیا جس کے ذریعے انہیں ’جرم، انصاف، پانی اور پائپ‘ جیسے الفاظ سنائی دیے۔
بعد ازاں تاریخی ریکارڈ کھنگالنے پر، ان کے مطابق، معلوم ہوا کہ وہاں دفن ایک شخص رچرڈ جیسن پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے اور پانی فراہم کرنے والی ایک کمپنی کے بانیوں میں شامل تھے۔
ہاروے کا کہنا ہے کہ اس شخص کی قبر کے قریب درجہ حرارت اچانک کم ہو گیا اور وہاں لوبان جیسی تیز خوشبو بھی محسوس ہوئی حالانکہ آس پاس کوئی موجود نہیں تھا۔
گاڑی خود بخود کھلنے کا دعویٰ
انہوں نے بتایا کہ ان کے سب سے خوفناک تجربات میں سے ایک اس وقت پیش آیا جب وہ کیناک چیز نامی مقام پر تحقیق کر رہے تھے۔
مزید پڑھیں: تباہ شدہ یو ایف اوز سے 4 مختلف خلائی مخلوقات ملیں، سابق سی آئی اے محقق کادعویٰ
ان کے بقول اچانک انہیں ایک روشنی دکھائی دی اور اسی دوران ان کی گاڑی خود بخود ان لاک ہو گئی، جس نے انہیں شدید خوفزدہ کر دیا۔
’خوف نہیں بلکہ سکون ملتا ہے‘
ہاروے کا کہنا ہے کہ اگرچہ لوگ اس شعبے کو خوفناک سمجھتے ہیں لیکن ان کے لیے مافوق الفطرت تحقیق ذہنی سکون کا باعث بنتی ہے خاص طور پر کسی قریبی عزیز کی وفات کے بعد انہیں اس میدان میں روحانی اطمینان ملا۔
انہوں نے کہا کہ ان کے نزدیک یہ صرف ڈراؤنی کہانیاں نہیں بلکہ تاریخ، مقامات اور اپنے ماضی سے جڑنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔
سائنسی مؤقف
سائنس دانوں اور ماہرین نفسیات کے مطابق اب تک بھوتوں، ارواح یا مافوق الفطرت ہستیوں کے وجود کے حق میں کوئی قابل اعتماد سائنسی ثبوت موجود نہیں۔
مزید پڑھیے: پینٹاگون کی نئی یو ایف او فائلز منظر عام پر، پراسرار چمکتے گولوں کے انکشاف نے توجہ حاصل کر لی
ماہرین کا کہنا ہے کہ سایوں، آوازوں، خوشبوؤں یا دیگر غیر معمولی تجربات کی متعدد نفسیاتی، ماحولیاتی یا طبعی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں اس لیے ایسے دعوؤں کو حتمی حقیقت کے بجائے ذاتی تجربات کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔














