بھارت میں قدیم تاریخی مسجد کے انہدام کے نوٹس پر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کا اظہارِ تشویش

ہفتہ 20 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے بھارت میں تاریخی مسلم مذہبی مقامات، بالخصوص وارانسی میں واقع تقریباً ایک ہزار سال قدیم ’مسجد گنج شہیداں‘ کو شہید کیے جانے کے خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ہفتے کو اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں صدر زرداری نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس قسم کے اقدامات کو فوری طور پر روکیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کے ایسے اقدامات سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں اور ملک میں طویل المدتی بے چینی اور عدم استحکام کا سبب بن سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:دہلی 2020 فسادات کیس: بھارت میں عدالتی نظام اور اقلیتوں کے حقوق پر سوالات

انہوں نے مزید کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اور مشترکہ ثقافتی و مذہبی ورثے کی حفاظت ہر صورت یقینی بنائی جانی چاہیے۔

صدرِ پاکستان کا یہ اہم بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارتی میڈیا کے مطابق، ناردرن ریلوے کے وارانسی ڈویژن نے کاشی ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع اس تاریخی مسجد کو ’20 جون‘ تک ہٹانے کا متنازع نوٹس جاری کر رکھا ہے۔

دوسری جانب مسجد انتظامیہ ’انجمن انتظامیہ مساجد وارانسی‘ نے ریلوے کے اس اقدام پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے نوٹس کو یکسر غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

انجمن کے عہدیداران نے وارانسی کے ضلعی مجسٹریٹ (ڈی ایم) سے ملاقات کر کے ایک احتجاجی یادداشت پیش کی ہے، جس میں ریلوے حکام کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات اور دعوؤں کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

انتظامیہ نے ضلعی حکام سے درخواست کی ہے کہ جب تک معاملے کا مکمل جائزہ نہیں لے لیا جاتا، تب تک ریلوے کو کسی بھی قسم کی کارروائی سے روکا جائے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، انجمن انتظامیہ کے جوائنٹ سیکریٹری ایس ایم یاسین نے بتایا کہ 13 جون کو مسجد کے باہر چسپاں کیے گئے نوٹس پر نہ تو کوئی تاریخ درج ہے، نہ کسی کے دستخط ہیں اور نہ ہی کوئی سرکاری مہر موجود ہے، لہٰذا یہ نوٹس قانونی تقاضے پورے نہیں کرتا اور انجمن اسے مسترد کرتی ہے۔

مزید پڑھیں:’ سرحد پار تشدد اور اقلیتوں پر مظالم بے نقاب ‘، اقوام متحدہ میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب

ضلعی انتظامیہ کو دی گئی یادداشت میں واضح کیا گیا ہے کہ مسجد گنج شہیداں وارانسی میونسپل کارپوریشن میں عمارت نمبر ‘A-36/4’ کے طور پر رجسٹرڈ ہے اور اس کا ریلوے کی زمین سے کوئی تعلق نہیں۔ اس سلسلے میں عدالت میں جمع کرائے گئے ایک جوابی حلف نامے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ قدیم نقشوں میں مسجد کا وجود واضح طور پر درج ہے، جبکہ کاشی ریلوے اسٹیشن تو اس کے بہت بعد میں قائم کیا گیا تھا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسجد کی تاریخی حیثیت اور قدامت کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی انتظامی فیصلے سے قبل مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔

واضح رہے کہ یہ تنازع اس وقت بھارت میں مذہبی ورثے کے تحفظ اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ چکا ہے، تاہم متعلقہ بھارتی حکام کی جانب سے ابھی تک اس پر کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیراماؤنٹ اور وارنر برادرز ڈسکوری کے اربوں ڈالر کے انضمام کو عدالتی حکم سے روک دیا گیا

فیفا ورلڈ کپ 2026 جیتنے پر اسپین پر ڈالروں کی بارش، کتنا انعام ملا؟

کینیڈا میں جنگلاتی آگ بے قابو، دھوئیں نے امریکا کے کئی علاقوں کو لپیٹ میں لے لیا

سی پی ایل 2026، صائم ایوب جمیکا کنگز مین اسکواڈ کا حصہ بن گئے

پاکستان اور کینیڈا کا دوطرفہ تعلقات، تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق

ویڈیو

ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی پاکستان پہنچ گئے، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقاتیں متوقع

کراچی سو رہا تھا، مگر ’منی برازیل‘ جاگ رہا تھا، لیاری میں فٹبال فائنل کی رات کیسی گزری؟

نورین نیازی کے بیان پر عوام کا شدید غصہ، مولانا فضل الرحمان معافی نہ مانگنے پر بضد، کالعدم ایکشن کمیٹی کی بڑی سازش

کالم / تجزیہ

ورلڈ کپ ختم ہوا، کہانی نہیں

کیا واقعی کچھ ہونے والا ہے؟

ایک اور وکلا تحریک: ہماری توبہ، ہمیں معاف رکھیں