صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے بھارت میں تاریخی مسلم مذہبی مقامات، بالخصوص وارانسی میں واقع تقریباً ایک ہزار سال قدیم ’مسجد گنج شہیداں‘ کو شہید کیے جانے کے خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ہفتے کو اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں صدر زرداری نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس قسم کے اقدامات کو فوری طور پر روکیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کے ایسے اقدامات سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں اور ملک میں طویل المدتی بے چینی اور عدم استحکام کا سبب بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:دہلی 2020 فسادات کیس: بھارت میں عدالتی نظام اور اقلیتوں کے حقوق پر سوالات
انہوں نے مزید کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اور مشترکہ ثقافتی و مذہبی ورثے کی حفاظت ہر صورت یقینی بنائی جانی چاہیے۔
صدرِ پاکستان کا یہ اہم بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارتی میڈیا کے مطابق، ناردرن ریلوے کے وارانسی ڈویژن نے کاشی ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع اس تاریخی مسجد کو ’20 جون‘ تک ہٹانے کا متنازع نوٹس جاری کر رکھا ہے۔
President Asif Ali Zardari expressed deep concern over the demolitions and threats to historic Muslim religious sites in India, including the 1,000-year-old Masjid Ganj Shaheeda in Varanasi. He asked India to immediately stop such actions, warning that they risk leading to the…
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) June 20, 2026
دوسری جانب مسجد انتظامیہ ’انجمن انتظامیہ مساجد وارانسی‘ نے ریلوے کے اس اقدام پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے نوٹس کو یکسر غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
انجمن کے عہدیداران نے وارانسی کے ضلعی مجسٹریٹ (ڈی ایم) سے ملاقات کر کے ایک احتجاجی یادداشت پیش کی ہے، جس میں ریلوے حکام کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات اور دعوؤں کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
انتظامیہ نے ضلعی حکام سے درخواست کی ہے کہ جب تک معاملے کا مکمل جائزہ نہیں لے لیا جاتا، تب تک ریلوے کو کسی بھی قسم کی کارروائی سے روکا جائے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، انجمن انتظامیہ کے جوائنٹ سیکریٹری ایس ایم یاسین نے بتایا کہ 13 جون کو مسجد کے باہر چسپاں کیے گئے نوٹس پر نہ تو کوئی تاریخ درج ہے، نہ کسی کے دستخط ہیں اور نہ ہی کوئی سرکاری مہر موجود ہے، لہٰذا یہ نوٹس قانونی تقاضے پورے نہیں کرتا اور انجمن اسے مسترد کرتی ہے۔
مزید پڑھیں:’ سرحد پار تشدد اور اقلیتوں پر مظالم بے نقاب ‘، اقوام متحدہ میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
ضلعی انتظامیہ کو دی گئی یادداشت میں واضح کیا گیا ہے کہ مسجد گنج شہیداں وارانسی میونسپل کارپوریشن میں عمارت نمبر ‘A-36/4’ کے طور پر رجسٹرڈ ہے اور اس کا ریلوے کی زمین سے کوئی تعلق نہیں۔ اس سلسلے میں عدالت میں جمع کرائے گئے ایک جوابی حلف نامے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ قدیم نقشوں میں مسجد کا وجود واضح طور پر درج ہے، جبکہ کاشی ریلوے اسٹیشن تو اس کے بہت بعد میں قائم کیا گیا تھا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسجد کی تاریخی حیثیت اور قدامت کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی انتظامی فیصلے سے قبل مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔
واضح رہے کہ یہ تنازع اس وقت بھارت میں مذہبی ورثے کے تحفظ اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ چکا ہے، تاہم متعلقہ بھارتی حکام کی جانب سے ابھی تک اس پر کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔













