پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مقامی قیادت اور تنظیموں کے درمیان تفصیلی مشاورت کے بعد گلگت بلتستان میں سیاسی اشتراک کے تحت مشترکہ حکومت قائم کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
دونوں جماعتوں نے باہمی اعتماد اور اتفاقِ رائے کے بعد سیاسی استحکام، عوامی فلاح و بہبود اور جمہوری اقدار کے فروغ کو مقدم رکھتے ہوئے مل کر آگے بڑھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
پاور شیئرنگ کا مجوزہ فارمولا
دونوں جماعتوں کے مابین طے پانے والے پبلک مینڈیٹ فارمولے کے تحت عہدوں کی تقسیم درج ذیل طریقے سے ہوگی، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کا اہم ترین منصب پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس ہوگا۔ گورنر گلگت بلتستان کا عہدہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان: پیپلز پارٹی کی جانب سے امجد حسین ایڈووکیٹ وزیراعلیٰ نامزد
ڈپٹی اسپیکر اسمبلی کا منصب بھی مسلم لیگ (ن) کے حصے میں آئے گا۔ اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف (اپوزیشن لیڈر) کا عہدہ بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پاس رہے گا۔
چیلنجز سے نمٹنے اور ترقیاتی عمل تیز کرنے پر اتفاق
دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ فارمولا باہمی مشاورت اور سیاسی ہم آہنگی کا مظہر ہے۔
پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) اس بات پر متفق ہیں کہ ملک اور بالخصوص گلگت بلتستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے، عوامی مسائل کے فوری حل، ترقیاتی عمل کو تیز کرنے اور جمہوری اداروں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ‘سیاسی استحکام’ ناگزیر ہے۔
ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر کام کریں گے
معاہدے کے اختتام پر دونوں جماعتوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد، عوامی خدمت اور خطے کی خوشحالی کے لیے مل کر کام کریں گی۔
واضح رہے کہ مشترکہ حکومت کا یہ فیصلہ خطے میں سیاسی رواداری، قومی یکجہتی اور جمہوری تسلسل کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کے ذریعے گلگت بلتستان میں ‘مؤثر، مستحکم اور عوام دوست حکمرانی’ کو یقینی بنایا جائے گا۔
بعد ازاں گلگت میں دونوں جماعتوں کے سینیئر قائدین نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی شراکت داری اور وفاقی فارمولے کے تحت آگے بڑھنے کا باضابطہ اعلان کیا۔
مسلم لیگ (ن) کا قائدِ ایوان اور اسپیکر کے لیے ووٹ دینے کا اعلان
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہماری جماعت قائدِ ایوان (وزیراعلیٰ) کے انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار کو ووٹ دے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی کے عہدے کے لیے بھی مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی کے امیدوار کی بھرپور حمایت کرے گی۔’ حافظ حفیظ الرحمن نے مزید واضح کیا کہ ‘وفاقی فارمولے’ کے تحت ڈپٹی اسپیکر اور گورنر گلگت بلتستان کا منصب مسلم لیگ (ن) کے پاس ہوگا۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے ن لیگ کی قیادت کا شکریہ
مسلم لیگ (ن) کی جانب سے غیر مشروط تعاون اور حمایت کے اعلان پر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے ن لیگ کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔
پریس کانفرنس کے دوران رہنماؤں کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے وسیع تر مفاد کی خاطر دونوں جماعتیں ایوان کے اندر اور باہر ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیں گی تاکہ خطے کو سیاسی اور معاشی طور پر مستحکم کیا جا سکے۔
آئی پی پی سے اتحاد کا فیصلہ بلاول بھٹو کریں گے، امجد ایڈووکیٹ
پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کی جانب سے استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے ساتھ ممکنہ اتحاد کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر اور نامزد وزیراعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ ‘استحکام پاکستان پارٹی کے ساتھ اتحاد کے امور پر حتمی فیصلہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خود کریں گے، اور ان کی ہدایت کے مطابق ہی اگلا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔’
پریس کانفرنس میں مرکزی و صوبائی قائدین کی شرکت
اس اہم اور تاریخی پریس کانفرنس میں دونوں جماعتوں کی مرکزی اور صوبائی قیادت نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ، نیئر حسین بخاری اور صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ شریک تھے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت سابق وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن اور ن لیگ کے نو منتخب پارلیمانی ارکان کر رہے تھے۔












