جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے توجی خیل قبیلے کی 4 گاڑیوں پر قبضہ کرلیا اور قبیلے کے متعدد افراد کو قریبی پہاڑی علاقوں سے زبردستی بے دخل کردیا۔
ذرائع کے مطابق علاقے میں موجود توجی خیل قبائل کے افراد کے خلاف گرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں، جس کے باعث مقامی آبادی میں خوف و ہراس کی فضا پائی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں:ضلع کرک میں پولیس پر ’فتنہ الخوارج ‘ کا ڈرون حملہ، 9 جوان زخمی
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج کی جانب سے قبائلی آبادی کے خلاف دہشتگردانہ کارروائیاں مسلسل جاری ہیں، جن کا مقصد مقامی لوگوں پر دباؤ بڑھانا، ان کی نقل و حرکت محدود کرنا اور انہیں اجتماعی سزا دینا ہے۔ قبائلی عمائدین نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن شہریوں کو نشانہ بنانے سے علاقے میں عدم استحکام اور بے یقینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق توجی خیل قبیلے کے افراد کو اپنے علاقوں سے نکلنے پر مجبور کیے جانے کے بعد متعدد خاندان مشکلات کا شکار ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بے دخلی کے باعث متاثرہ خاندانوں کو رہائش، خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
علاقے کے مشاہدین کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج کی جانب سے دھمکیوں، زبردستی بے دخلی اور املاک پر قبضے جیسے اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ گروہ خوف و جبر کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا اور ان کے بنیادی حقوق سلب کرنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔
مزید پڑھیں:فتنہ الہندوستان و فتنہ الخوارج کا بزدلانہ حملہ، کوئٹہ کے قریب ٹرین پر معصوم شہری نشانہ بن گئے
مقامی ذرائع نے مزید بتایا کہ توجی خیل قبیلے کی 4 گاڑیوں پر قبضہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جسے قبائلی عمائدین نے کھلی لوٹ مار اور معاشی استحصال قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے معاشی مسائل میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ پورے علاقے میں خوف اور عدم تحفظ کو بھی فروغ دیتے ہیں۔
علاقے کے عوام اور قبائلی مشران نے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کے تحفظ اور بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور پرامن شہریوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ یقینی بنایا جائے۔














