ہماری پہلی گاڑی کے شیشوں اور ٹائروں پر اندھا دھند گولیاں برس رہی تھیں، جب کہ دوسری گاڑی خطرے کو بھانپتے ہوئے واپس موڑ لی گئی۔ گولیوں کی تڑ تڑ میں ہم بری طرح حواس کھو چکے تھے۔ ڈرائیور کو گاڑی روکنا پڑی۔ بندوقوں کے سائے میں انتہائی غلیظ گالیوں کے ساتھ ہمیں گاڑی سے اتار کر قطار میں کھڑا کیا گیا اور ہاتھوں کو سیدھا اوپر کرنے کو کہا گیا۔ فائرنگ اب بھی ہو رہی تھی۔
یہ 7 دسمبر 2010 کی ایک یادگار اور سنہری دوپہر تھی۔ سورج کی کرنوں میں حرارت قدرے کم تھی اور ہلکی سی سردی کا احساس ہو رہا تھا۔ میں اپنے دوست عمران علی کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل کی چھت پر بیٹھا الکیمسٹ پڑھ رہا تھا اور وہ راجہ گدھ کے مطالعے میں مشغول تھا۔ اتنے میں آصف علی اور عاطف حسین بھی پہنچ گئے۔ یوں ہم چاروں دوست بیٹھے باتیں کرنے لگے۔
’آج پتوکی چلیں؟‘ عاطف حسین نے آصف علی کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا۔ ’پتوکی؟‘ عمران علی اور میں حیرت زدہ تھے۔ یہ اچانک پتوکی کا خیال کہاں سے آ گیا؟
’یار، میں کب سے آصف علی کو پتوکی سے گنے لانے کا کہ رہا ہوں، مگر یہ ہمیشہ سنی ان سنی کر دیتا ہے۔ کیوں نہ ہم لوگ اس کے گاؤں ہی چلے جائیں اس کے ساتھ؟ سیر کی سیر اور پھر گنے تو ہوں گے ہی بہت وہاں۔‘
اس نے وضاحت اس انداز سے کی کہ ہمیں محسوس ہوا، پروگرام تو شاید پہلے سے طے ہے، ہمیں بس یہ بتایا جا رہا ہے کہ تیار ہونے کے لیے کچھ زیادہ وقت نہیں ہے ہمارے پاس۔
میرے انکار کی دلیل مگر یہ تھی کہ سب دوستوں کو چاہیے کہ اپنے گھر والوں کو بتائیں، اور کسی دن صبح سویرے نکلنا چاہیے کیونکہ شام کو مغرب کے بعد ان راستوں کا سفر جن کے بارے میں ڈکیتی کی وارداتوں کا ذکر زبان زدِ خاص و عام ہو، کسی صورت مناسب نہیں۔
لیکن یہ تمام تر تحفظات ہمارے دوست عاطف حسین کے مضبوط ارادوں کے سامنے ریت کا ڈھیر ثابت ہوئے۔ طے ہوا کہ سب دوست تیار ہو جائیں، مغرب کے بعد نکلنا ہے اور کسی کا کوئی عذر قابلِ قبول نہیں ہے۔
رات کے ساڑھے 8 بجے ہم سب پتوکی کی طرف روانہ ہو چکے تھے۔ بس اگرچہ نان اے سی تھی مگر اس میں تفریح کا سامان موجود تھا۔ اکثر مسافر فلم ’جانور‘ سے محظوظ ہو رہے تھے اور کچھ سو رہے تھے۔ ٹھیک سوا گھنٹے بعد ہم لوگ پتوکی بائی پاس پر اتر چکے تھے۔
ہم پہلی بار پتوکی شہر کا نظارہ کر رہے تھے۔ شوکت علی ہمیں گائیڈ کر رہا تھا کہ:
’یہ گورنمنٹ ہائی اسکول ہے
یہ سبزی منڈی ہے
یہ ڈگری کالج ہے
یہ کالج کا عقبی دروازہ ہے
یہ وہ گراؤنڈ ہے جہاں ہم کھیلا کرتے تھے۔‘
سڑکیں ٹوٹی پھوٹی تھیں اور شہر کی اکثر دکانیں بند ہو چکی تھیں۔ لاری اڈے پہنچ کر یہ مشاورت ہونے لگی کہ باقی کا سفر کس طرح طے کرنا ہے۔ ابھی ہم سوچ ہی رہے تھے کہ ہمارے سامنے 2 گاڑیاں آ کر رکیں اور وہ ہمارے میزبان دوست آصف علی کے جاننے والے بھی تھے۔ یوں ہم خود کو محفوظ تصور کرتے ہوئے ان گاڑیوں میں سوار ہو گئے، مگر شرط ان کی یہ تھی کہ کچھ دیر کے لیے کاشف چوک پر رکیں گے۔
اب ہمارا گزر مختلف گلیوں سے ہو رہا تھا۔ وہاں بالکل سناٹا تھا۔ کہیں کہیں سے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ راستے میں گہرے کھڈے تھے۔ چند منٹوں کے تکلیف دہ اور پراسرار سفر کے بعد ہم کاشف چوک پہنچ چکے تھے، وہاں مگر رونق تھی۔ گرم دودھ اور انڈوں سے ہماری تواضع کی گئی۔ لوگ ملنسار تھے اور ان سے مل کر ہم خوش ہوئے۔
کاشف چوک سے اپنی اگلی اور آخری منزل، روسہ ٹبہ کی طرف روانہ ہوئے۔ نہر کا پل عبور کرنے کے بعد راستہ بہت ہموار اور صاف دکھائی دیتا تھا۔ دونوں گاڑیوں میں موجود لوگ موسیقی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ ’شیلا کی جوانی‘ اور ’مُنی بدنام ہوئی‘ جیسے گانوں کی موسیقی رات کے اس وقت واقعی سماں باندھ رہی تھی۔
راستے کے دونوں طرف گنے کے کھیت تھے اور ہر طرف تاریکی کا راج تھا۔ دور دور تک آبادی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ گاڑیاں دھیمی رفتار سے چل رہی تھیں کہ ہماری آنکھوں کے سامنے منظر ایک دم تبدیل ہونے لگا۔
کوئی 50 میٹر دور چند نقاب پوش راستہ روکے ہاتھوں میں بندوقیں تھامے ہمارے سامنے کھڑے تھے۔ ان کی نقابوں کے رنگ گلابی اور سرخ تھے اور ان کی عمریں 25 سے 35 سالوں کے درمیان تھیں۔
ہماری گاڑی پر فائرنگ اور ان نقاب پوش افراد کی بے رحمانہ تلاشی کے دوران کہیں دور سے ایک فائر کی آواز سنائی دی جو دوسری گاڑی میں سوار فیصل چودھری نے کیا تھا۔ ادھر یہ لوگ اب ہماری گاڑی میں چھان بین کر رہے تھے۔
’جیبیں دیکھو ان کی، جیبیں ساری، اچھی طرح، جلدی کرو، جلدی!‘
ایک آدمی بھاری آواز سے باقی لوگوں کو ہدایات دے رہا تھا۔ ’ہاتھ اوپر، ہاتھ اوپر، خبردار جو حرکت کرنے کی کوشش کی!‘ دوسرا نقاب پوش چلایا۔
ہمارے تو اوسان پہلے ہی خطا ہو چکے تھے، بھلا ہم حرکت کے قابل رہے کہاں تھے۔ کچھ ہی دیر میں وہ لوگ دوبارہ گنے کے کھیتوں میں گھس گئے۔
کافی دیر کے بعد ہم خوف و ہراس کی کیفیت سے باہر آئے۔ اسی اثنا میں پولیس کی گاڑی جائے واردات پر آ کر رکی۔ چند سوالات کیے، رسمی کارروائی کی اور چلتے بنے۔ اتنے میں دوسری گاڑی کے دوست بھی ہمارے پاس پہنچ چکے تھے۔
پولیس کے جانے کے بعد ہم نے ساری گتھیاں سلجھا لیں کہ کون کس کا سہولت کار بنا ہوا تھا اور کون کیا ہدایات دے رہا تھا۔ مگر ہم زندگی کے ایک تلخ ترین تجربے سے گزر چکے تھے۔
اب کبھی کبھار وہ تاریک رات یاد آتی ہے تو میں سوچتا ہوں کہ ہماری جانیں تو اس اندوہناک سانحے میں بچ گئیں لیکن اگر اس وقت پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) موجود ہوتا تو کیا وہ گنے کا کھیت اور ٹوٹی پھوٹی سڑک مجرموں کی پناہ گاہ بن سکتی تھی؟ نہیں، ہرگز نہیں، بلکہ انہیں سی سی ڈی کا خوف اس واردات سے باز رکھتا۔
لیکن اس ادارے کے قیام پر اطمینان ہونے کے ساتھ اگلے ہی لمحے یہ فکر بھی دامن گیر ہوتی ہے کہ اگر یہی جدید تربیت یافتہ فورس چکوال کی ایک 9 سالہ معصوم بچی ہانیہ پر گولیوں کی بوچھاڑ کرتے ہوئے اسے موت کی آغوش میں سلا دے، اگرچہ غیر دانستہ ہی کیوں نہ ہو، تو سوالات تو اٹھیں گے کہ ریاست کے محافظ ہی امن کو داغدار کر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اس واقعے کی آزادانہ تفتیش ہو رہی ہے اور اس میں پیش رفت بھی ہوئی ہے جو کہ خوش آئند ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ایسے واقعات آخر کب رکیں گے جو ریاست کے ایک ایسے ادارے کی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں۔ جس نے اپنی پیشہ ورانہ اور منظم و مربوط سرگرمیوں کے باعث سینکڑوں قیمتی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا ہے اور ہزاروں مجرموں کی بیخ کنی کی ہے۔
سی سی ڈی کے ماورائے عدالت اقدامات یا ان اقدامات کے اعداد و شمار اور ان کے صحیح یا غلط ہونے کی بحث میں الجھے بغیر یہ بات تو وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ جرائم کے خلاف یہ جنگ تبھی جیتی جا سکتی ہے جب دفاع کا یہ ہتھیار اپنے ہی بے گناہ شہریوں کے خلاف استعمال نہ ہو۔
سی سی ڈی جیسی جدید تربیت یافتہ فورس اپنے ادارے میں غیر جانبدارانہ احتساب اور دیانت دارانہ ذمہ داریوں کا ادراک جیسی قدریں پروان چڑھاتی ہے تو اسے خوف و ہراس سے پاک سماج کی تشکیل میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا سکتا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














