جنوبی کوریا میں مقیم ایک غیر ملکی شہری نے وہاں کے عوامی اعتماد اور امن و امان سے متعلق اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ملک میں لوگوں کو اپنی اشیا چوری ہونے کا خوف تقریباً نہیں ہوتا جس کی وجہ سے وہ روزمرہ زندگی میں غیر معمولی حد تک بے فکری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: رات گئے بھی اکیلی گھر واپس آئی کسی نے ہراساں نہیں کیا، بھارتی خاتون کا فرانس میں تجربہ
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں اس شخص نے بتایا کہ وہ گزشتہ ایک ماہ سے اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ جنوبی کوریا میں مقیم ہے اور اس دوران کئی ایسے واقعات دیکھے جنہوں نے عوامی تحفظ کے بارے میں اس کا نقطۂ نظر بدل کر رکھ دیا۔
اس نے لکھا کہ جب بھی وہ کسی جگہ جاتے ہیں تو بچوں کی اسٹرولر (بچی کی گاڑی) باہر ہی چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ کوئی اسے چوری نہیں کرے گا۔
اس نے ایک اور واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک دوست کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر ملا جو اپنی سائیکل پر آیا تھا۔ دوست نے سائیکل بغیر کسی تالے کے ایک گلی میں کھڑی کر دی اور تقریباً 2 گھنٹے بعد واپس آیا تو سائیکل وہیں موجود تھی۔
اسی طرح اس کے ایک دوست کا آئی فون ایک پارک کی بینچ پر رہ گیا تھا لیکن جب وہ تقریباً 4 گھنٹے بعد واپس آیا تو موبائل فون اسی جگہ محفوظ رکھا ہوا تھا۔
مزید پڑھیے: کراچی میں چلتی گاڑی سے بکرا چوری، حیران کن واردات کی ویڈیو وائرل
اس شخص نے مزید بتایا کہ ایک کنسرٹ کے قریب اس نے دیکھا کہ سیئول سے باہر سے آنے والے مداح اپنے سوٹ کیس اور دیگر سامان بغیر کسی تالے یا نگرانی کے سب وے اسٹیشن کے باہر چھوڑ کر تقریب میں شریک ہو گئے تھے۔
اس کے مطابق جب اس نے مقامی لوگوں سے پوچھا کہ انہیں سامان چوری ہونے کا خوف کیوں نہیں ہوتا تو ان کا جواب تھا کہ آخر کوئی دوسرے کا سامان کیوں لے گا؟
I’ve been living immersed in South Korea for the last month with my wife and daughter.
We just leave the stroller outside if we go in anywhere.
Because no one’s going to steal it.
I met a friend for lunch. He rode his bicycle. He just left it outside in an alley without a… pic.twitter.com/sPEC6X3B7p
— Matt Kim (@mattkim1) June 21, 2026
اس نے لکھا کہ دنیا کے بہت سے شہروں میں ایسے مناظر کا تصور بھی مشکل ہے لیکن جنوبی کوریا جیسے اعتماد پر مبنی معاشرے (ہائی ٹرسٹ سوسائٹی) میں قوانین، سماجی اقدار اور ایک دوسرے کے حقوق کا احترام اس قدر مضبوط ہے کہ چوری کو انتہائی سنجیدہ جرم سمجھا جاتا ہے خواہ چیز کی مالی قیمت کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔
مزید پڑھیں: لکھنؤ کے بعد ممبئی ایئرپورٹ پر بھی حجاج کا سامان چوری، مسافروں کا شدید احتجاج
یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صارفین کی توجہ کا مرکز بن گئی، جہاں مختلف افراد نے عوامی اعتماد اور سماجی رویوں پر اپنی آرا کا اظہار کیا۔
ایک صارف نے لکھا کہ میں امریکا کی ریاست وسکونسن کے ایک چھوٹے شہر میں رہتا ہوں وہاں بھی لوگوں کے درمیان اسی طرح کا اعتماد پایا جاتا ہے۔
ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ ہمیں بھی ایسے معاشرے کی طرف بڑھنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: بار بی کیو اشیا کی چوری کی رپورٹ، پولیس کو موقع پر ’قصوروار‘ لومڑی مل گئی
جبکہ ایک تیسرے صارف کا کہنا تھا کہ امریکا کے کئی چھوٹے شہروں میں بھی لوگ اسی طرح بے فکری سے اپنی اشیا چھوڑ سکتے ہیں۔










