خیبر پختونخوا کا خسارے کا بجٹ، صوبہ وفاق کو گرانٹس دینے کے لیے کیوں تیار نہیں؟

منگل 23 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا حکومت نے ایسے وقت میں خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے، جب وفاق، آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق، صوبوں سے گرانٹس کا مطالبہ کر رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق، بجٹ پیش ہونے سے قبل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور مشیر خزانہ مزمل اسلم نے اسلام آباد میں وزیراعظم سے ملاقات کرکے وفاق کو 175 ارب روپے گرانٹس کی مد میں دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ مزمل اسلم نے بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں بھی اس کی تصدیق کی تھی۔ تاہم بجٹ میں اس کے برعکس گرانٹس کے لیے سرپلس کے بجائے 48 ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کیا گیا۔

وعدے کے باوجود صوبہ وفاق کو گرانٹس کیوں نہیں دے رہا؟

خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم کے مطابق صوبائی بجٹ عوامی فلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ صوبے کے دستیاب وسائل کے مطابق بنایا گیا ہے اور اس پر سب سے پہلا حق صوبے کے عوام کا ہے، نہ کہ وفاق کا۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے دوران ہی واضح کر دیا گیا تھا کہ وفاق کو گرانٹس دینے کا حتمی فیصلہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے مشاورت کے بعد ہی کیا جائے گا، اور ان سے مشاورت کے بغیر ایسا ممکن نہیں۔

’اگر وفاق کو گرانٹس کی مد میں رقم چاہیے تو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ جب تک عمران خان سے ملاقات نہیں ہوتی، ایک پیسہ بھی نہیں دیا جائے گا۔‘

مزمل اسلم کا مؤقف ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے صوبے کا براہِ راست کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی صوبائی حکومت نے اس حوالے سے کوئی عہد کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے خیبر پختونخوا کا خسارے کا بجٹ، کیا صوبہ منی بجٹ لائے گا؟

’جب تک ہمیں اپنے قائد سے مشاورت کی اجازت نہیں ملتی، اس معاملے میں کچھ بھی ممکن نہیں۔‘

تاہم انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان سے ملاقات کی اجازت مل جاتی ہے تو مشاورت کے بعد وفاق کو گرانٹس دینے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔

’اگر ملاقات ہو جاتی ہے تو بجٹ میں ترامیم یا منی بجٹ کے ذریعے وفاق کو گرانٹس دی جا سکتی ہیں۔‘

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بھی بجٹ تقریر کے دوران وفاق کو گرانٹس نہ دینے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے، کیونکہ ان سے مشاورت کے بغیر وہ گرانٹس نہیں دے سکتے۔ انہوں نے بھی گرانٹس کے معاملے کو عمران خان سے ملاقات سے مشروط قرار دیا تھا۔

’عمران خان سے ملاقات کے بغیر کوئی گرانٹس نہیں لے سکتا‘

مشیر اطلاعات و ترجمان خیبر پختونخوا حکومت شفیع اللہ جان نے واضح کیا کہ وفاق کو اضافی گرانٹس دینے کا معاملہ عمران خان سے ملاقات سے مشروط ہے۔

’اگر وفاق کو گرانٹس چاہئیں تو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات کرائی جائے۔‘

شفیع اللہ جان نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت اس وقت تک گرانٹس نہیں دے سکتی، جب تک عمران خان سے ملاقات اور انہیں شفاف و بہتر طبی سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں۔

’خسارے کا بجٹ پیش کرنا سیاسی حکمت عملی ہے‘

خیبر پختونخوا اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف ڈاکٹر عباد اللہ کے مطابق حکومت صوبے کے حقوق پر بھی سیاست کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کو اس وقت مالی مشکلات کا سامنا ہے اور وہ وفاق کو گرانٹس دینے کی پوزیشن میں نہیں، لیکن اس کے باوجود وزیراعلیٰ وزیراعظم سے وعدہ کرکے آئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے علی امین گنڈاپور اپنی ہی حکومت کے خلاف کھل کر بول پڑے، بجٹ پر تحفظات کا اظہار

’بلوچستان اور گلگت بلتستان نے اپنی بات منوائی اور وفاق کو گرانٹس کے معاملے پر قائل کر لیا، لیکن ہمارے وزیراعلیٰ وعدہ کرکے واپس آگئے۔‘

انہوں نے کہا کہ صوبے کو اس وقت وسائل کی ضرورت ہے اور صوبے کے حقوق پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے بقول، اپوزیشن صوبے کے حقوق کے حصول کے لیے حکومت کے ساتھ کھڑی ہے، لیکن حکومت ان معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

’صوبہ وفاق پر سیاسی دباؤ ڈال رہا ہے‘

سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار وعدے کے باوجود گرانٹس نہ دینے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ قرار دے رہے ہیں۔

ان کے مطابق صوبائی حکومت عمران خان سے ملاقات کے لیے وفاق پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی کامران علی کے مطابق وزیراعلیٰ اور مزمل اسلم وفاق کو گرانٹس دینے پر اتفاق اور اس کی تصدیق کر چکے تھے، لیکن بعد میں بجٹ اس کے برعکس پیش کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سیاسی حکمت عملی کے تحت عمران خان سے ملاقات کے لیے دباؤ بڑھا رہی ہے۔

صحافی منظور علی کے مطابق رواں مالی سال کے دوران مارچ تک خیبر پختونخوا حکومت سرپلس کے ہدف کے حصول میں نمایاں پیش رفت کر چکی تھی۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف معاہدے کے تحت صوبے کے لیے سرپلس بجٹ پیش کرنا ضروری ہے، اس لیے خسارے کا بجٹ برقرار رکھنا طویل مدت میں مشکل ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp