ڈی ایچ اے کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کے خلاف متعدد سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بحریہ ٹاؤن کے گمراہ کن پروپیگنڈے سے متاثر نہ ہوں۔
بیان میں بحریہ ٹاؤن پر سرکاری و نجی اراضی پر قبضے، غیر قانونی پلاٹس کی فروخت، معاہدوں کی خلاف ورزی اور سرمایہ کاروں کو مالی نقصان پہنچانے سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
سرکاری و نجی اراضی پر قبضے اور غیر قانونی فروخت کے الزامات
بیان میں کہا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن سرکاری اور غیر سرکاری زمینوں پر قبضہ کرکے ان پر اپنے منصوبے قائم کرنے اور بعد ازاں انہیں فروخت کرنے میں ملوث رہا ہے۔
مزید کہا گیا کہ بحریہ ٹاؤن اپنی ملکیتی زمین سے زیادہ رقبے پر پلاٹس بنا کر، انتظامیہ کی مبینہ جعلی منظوریوں کی تشہیر کرتے ہوئے عوام سے غیر قانونی فروخت کے ذریعے بھاری رقوم وصول کرتا رہا اور ان رقوم کو بیرون ملک منتقل کرنے کا بھی مرتکب ہوا۔
ڈی ایچ اے کے ساتھ معاہدوں پر عمل نہ کرنے کا دعویٰ
ڈی ایچ اے کے مطابق بحریہ ٹاؤن نے ڈی ایچ اے کے ساتھ جتنے بھی معاہدے کیے، ان میں سے کسی ایک کو بھی مکمل نہیں کیا۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ان معاہدوں سے حاصل ہونے والی رقوم متعلقہ منصوبوں پر خرچ کرنے کے بجائے بحریہ ٹاؤن نے اپنے دیگر منصوبوں میں استعمال کیں یا بیرون ملک منتقل کر دیں۔
بیان کے مطابق مشترکہ منصوبوں کے لیے عوام سے رقوم حاصل کرنے کے باوجود ان منصوبوں کے لیے مختص زمین نہیں خریدی گئی اور نہ ہی مقررہ ترقیاتی کام مکمل کیے گئے، جس کے باعث منصوبے نامکمل رہے، طویل تاخیر کا شکار ہوئے اور عوام میں ڈی ایچ اے کی ساکھ متاثر ہوئی۔
مخصوص میڈیا کے ذریعے گمراہ کن مہم چلانے کا الزام
ڈی ایچ اے نے الزام عائد کیا کہ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ اپنے چند مخصوص میڈیا کارکنوں کے ذریعے اپنی مبینہ مظلومیت اور کارکردگی کا جھوٹا تاثر پیش کرکے عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ عوام کو مالی اور ذہنی نقصان پہنچانے کی ذمہ داری خود بحریہ ٹاؤن پر عائد ہوتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ڈی ایچ اے ایک منظم، معتبر اور قابل اعتماد ادارہ ہے جو اپنے معزز ممبران کے ساتھ انصاف اور شفافیت کے اصولوں کے مطابق پیش آتا ہے۔
ڈی ایچ اے کے مطابق وہ بحریہ ٹاؤن کے مبینہ دھوکے کا شکار ہوا، جس کے باعث اس کے ممبران کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم ادارہ اپنے ممبران کے اعتماد اور ان کی سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہا ہے۔
سرین سٹی فیز تھری اور گارڈن سٹی منصوبے سے متعلق تفصیلات
بیان میں کہا گیا کہ سرین سٹی فیز تھری میں بحریہ ٹاؤن کے پلاٹس پر قومی احتساب بیورو (نیب) کی پابندی کے باوجود بحریہ ٹاؤن نہ صرف معصوم شہریوں کو یہ پلاٹس فروخت کررہا ہے بلکہ الاٹمنٹ لیٹرز کے اجرا کے لیے انہیں ڈی ایچ اے بھیج رہا ہے تاکہ ڈی ایچ اے کو بدنام کیا جا سکے۔
مزید کہا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن ڈی ایچ اے کی زمین کو گارڈن سٹی منصوبے کے نام پر فروخت کررہا ہے اور اپنے ممبران کو تعمیرات کے اجازت نامے بھی جاری کررہا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد متاثرہ افراد تعمیر کی اجازت کے حصول کے لیے ڈی ایچ اے سے رجوع کرتے ہیں۔
بحریہ ٹاؤن فراڈ اور قبضہ گروپ
بیان میں کہا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن ایک ایسا ادارہ ہے جو قبضہ گروپ کے ذریعے عوامی اراضی اور شاملات پر قبضہ کرنے، غیر قانونی پلاٹس فروخت کرنے اور ڈی ایچ اے سمیت دیگر اداروں کو بدنام کرنے میں ملوث ہے۔
عوام الناس سے اپیل کی گئی کہ وہ بحریہ ٹاؤن جیسی مبینہ فراڈ سوسائٹی کے گمراہ کن پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔
بیان کے مطابق بحریہ ٹاؤن نے 2008 میں ملک ریاض کی قیادت میں ڈی ایچ اے ویلی منصوبہ شروع کیا اور 4 سال کے اندر منصوبہ مکمل کرکے پلاٹس حوالے کرنے کا وعدہ کیا۔ اس منصوبے کے دوران ایک لاکھ سے زیادہ فائلیں فروخت کی گئیں اور عوام سے اربوں روپے وصول کیے گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ متاثرین میں عام شہریوں کے علاوہ دہشتگردی کے خلاف جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے افواج پاکستان اور دیگر اداروں کے شہدا کے اہل خانہ، جنگی زخمی، حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین اور بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی شامل ہیں، جنہوں نے منصوبے کی بروقت تکمیل کی امید پر اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اس میں لگائی۔
ترقیاتی کاموں میں تاخیر اور رقوم دوسرے منصوبوں پر خرچ کرنے کا الزام
ڈی ایچ اے کے مطابق بحریہ ٹاؤن نے مطلوبہ زمین کے حصول اور ترقیاتی کاموں میں دانستہ تاخیر کی۔ متاثرین اور متعلقہ اداروں کی مسلسل کوششوں کے باوجود کوئی نمایاں پیشرفت نہ ہوئی، جبکہ ویلی منصوبے سے حاصل ہونے والی رقوم بحریہ ٹاؤن کے دیگر منصوبوں پر خرچ کی گئیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اس طرز عمل کے نتیجے میں ہزاروں سرمایہ کار مالی نقصان، غیر یقینی صورتحال اور ذہنی اذیت کا شکار ہوئے۔
ڈی ایچ اے کے منصوبے کی تکمیل کے لیے اقدامات
ڈی ایچ اے کا کہنا ہے کہ عوام کو پہنچنے والے نقصانات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈی ایچ اے اسلام آباد راولپنڈی کی انتظامیہ نے اس منصوبے پر خصوصی توجہ دی۔
بیان کے مطابق بھاری سرمایہ کاری اور مسلسل کوششوں کے نتیجے میں گزشتہ 4 سے 5 برسوں کے دوران قریباً دو تہائی ممبران کو پلاٹس فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی ایک تہائی ممبران کو آئندہ 2 سے 3 سال کے دوران پلاٹس فراہم کردیے جائیں گے۔














