سیاحتی مقامات خصوصاً نتھیا گلی میں ہوٹل کے بڑھتے ہوئے کرایوں پر سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو گئی ہے جہاں ایک رات کے قیام کے لیے قیمتوں کو غیر معمولی طور پر زیادہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر صحافی عمر قریشی نے ایک ہوٹل کے کرایوں کا سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ مختصر ویک اینڈ گیٹ وے کے لیے ہوٹل کے آپشنز دیکھتے ہوئے یہ صورتحال حیران کن ہے۔ صارف نے لکھا کہ نتھیا گلی میں ایک رات کے ہوٹل کے لیے 1400 ڈالر (تقریباً 3 لاکھ 89 ہزار پاکستانی روپے) سے زائد قیمت کیوں ادا کی جائے اور یہی سوال پاکستان کے دیگر سیاحتی مقامات پر بھی اٹھتا ہے کہ آخر اتنی زیادہ قیمتیں کیوں وصول کی جا رہی ہیں؟
Looking at hotel options for a quick weekend getaway
This is crazy!
Why would anyone in their right mind pay over $1400 for a night at a hotel in Nathiagali
In fact why would anyone in their right mind pay this much for a night at a hotel anywhere in Pakistan?! pic.twitter.com/izZfloh0xn
— omar r quraishi (@omar_quraishi) June 22, 2026
ان کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں بھی اس سے کم قیمت پر ہوٹل دستیاب ہوتے ہیں اس لیے یہ قیمت انتہائی زیادہ اور غیر معمولی ہے۔
اس ٹویٹ کے بعد آن لائن صارفین کی جانب سے بھی مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں کچھ افراد کا کہنا ہے کہ سیاحتی مقامات پر مہنگائی اور محدود سہولیات قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں جبکہ دیگر صارفین کے مطابق ہوٹل انڈسٹری میں غیر معمولی قیمتوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
کئی صارفین کا کہنا ہے کہ انہیں انڈونیشیا اور ترکیہ میں اس سے کہیں بہتر معیار کے ہوٹل کم قیمت میں دستیاب ہو جاتے ہیں جبکہ نتھیا گلی جیسے سیاحتی مقام پر اتنے زیادہ کرایے وصول کیے جانا غیر ضروری اور مہنگا عمل ہے۔













