اداکار مامیا شاہ جعفر اور ارسلان بٹ نے مبینہ ورک پلیس ہراسگی کے تنازعے پر باہمی رضامندی سے سمجھوتہ کر لیا ہے۔ مامیا شاہ جعفر نے کہا کہ وہ طبیعت ناساز ہونے کے باعث عدالتی سماعتوں میں شرکت نہیں کر سکتیں اسی لیے انہوں نے عدالت سے باہر معاملہ حل کرنے کا فیصلہ کیا۔
دونوں اداکاروں نے 22 جون کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایک تصفیہ نامے کی نقول شیئر کیں جن میں تنازعے کے حل کی شرائط درج تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: ارسلان بٹ نے اداکارہ مامیا شاہ جعفر کو قانونی نوٹس بھیج دیا، ہراسانی الزامات پر معافی مانگنے کا مطالبہ
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب مامیا شاہ جعفر نے عفت عمر کے شو میں دعویٰ کیا کہ ’ارسلان‘ نامی ایک شخص نے شوٹنگ کے دوران انہیں غیر آرام دہ محسوس کروایا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے سوشل میڈیا پر وضاحت کی کہ ان کا اشارہ اپنے ڈرامے کالج گیٹ کے ساتھی اداکار ارسلان خان کی طرف نہیں تھا۔
تاہم عفت عمر نے مبینہ طور پر کہا کہ مامیا کا اشارہ ارسلان بٹ کی جانب تھا جس کے بعد معاملہ شدت اختیار کر گیا۔ ارسلان بٹ نے مامیا شاہ جعفر کو قانونی نوٹس بھیجا اور ان کے بیانات کو ’جھوٹا، بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور ہتک آمیز‘ قرار دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ان الزامات سے ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا اور انہیں ذہنی اذیت اور عوامی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: ’سنگین نتائج کے لیے تیار رہیں‘، اداکار ارسلان بٹ کا مامیا شاہ جعفر کو انتباہ
نوٹس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مامیا شاہ جعفر الزامات واپس لیں، ہتک آمیز مواد ہٹانے کے لیے اقدامات کریں، غیر مشروط عوامی معافی اور تردید جاری کریں اور آئندہ ایسے الزامات دہرانے سے گریز کریں۔
اس کے جواب میں مامیا شاہ جعفر نے ارسلان بٹ کو ایک ارب روپے ہرجانے کا جوابی نوٹس بھیجا۔ ان کا مؤقف تھا کہ بٹ کا قانونی نوٹس غلط، بدنیتی پر مبنی اور انہیں دباؤ میں لانے اور خاموش کرانے کی کوشش ہے جبکہ ان کے مطابق ارسلان بٹ کی جانب سے بارہا ہراسگی کے واقعات پیش آئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ’یہ بھی نہ پہنتیں‘، مامیا شاہ جعفر کے بولڈ لباس پر صارفین بھڑک اٹھے
19 جون کو ہونے والے تصفیہ نامے کے مطابق، دونوں فریقین کے درمیان ذاتی بیانات، قانونی نوٹسز، شکایات اور مختلف فورمز پر زیر غور معاملات کے حوالے سے اختلافات پیدا ہوئے تھے جنہیں باہمی رضامندی اور بزرگوں، خیرخواہوں اور مشترکہ ثالثوں کی مدد سے حل کر لیا گیا۔
معاہدے کے تحت دونوں فریقین نے مبینہ ورک پلیس ہراسگی کے معاملے کو ماضی کا حصہ قرار دیتے ہوئے اسے مکمل طور پر حل شدہ تسلیم کیا۔ دستاویز میں کہا گیا کہ دونوں فریق اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ معاملہ مکمل اور حتمی طور پر طے پا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مامیا شاہ جعفر کا ساتھی اداکار پر ہراسانی کا الزام، شوبز انڈسٹری سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات
مزید کہا گیا کہ معاہدے سے قبل پیش آنے والے کسی بھی واقعے، بیان، شکایت، قانونی نوٹس، سوشل میڈیا مواد یا تنازعے کے حوالے سے اب کوئی دعویٰ، الزام یا اختلاف باقی نہیں رہا۔
فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ماضی کے تمام بیانات، الزامات، شکایات، قانونی مراسلت اور تنازعات کو باہمی طور پر معاف، واپس اور ختم سمجھا جائے گا۔ معاہدے میں واضح کیا گیا کہ اسے کسی بھی فریق کی جانب سے جرم، بدعنوانی یا غلط رویے کا اعتراف نہیں سمجھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی اداکارائیں جو بولڈ لباس پہننے سے نہیں گھبراتیں
اس کے علاوہ دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف ہتک آمیز، دھمکی آمیز یا منفی بیانات نہ دینے اور زیر التوا شکایات یا قانونی کارروائیوں کو واپس لینے یا ختم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
مامیہ شاہ جعفر نے بتایا کہ ان کی طبیعت ناساز ہے اور وہ عدالتی کارروائیوں میں شرکت نہیں کر سکتیں اسی لیے انہوں نے عدالت سے باہر تصفیہ کو ترجیح دی۔ ان کے مطابق ڈرامہ ’میسنی‘ کے ہدایت کار میر سکندر نے دونوں فریقین کو معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔














