وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا ایک اہم اجلاس وزارتِ خزانہ میں منعقد ہوا، جس میں اسٹیل ملز ملازمین کی تنخواہیں بحال جبکہ مختلف شعبوں اور اداروں کے لیے اربوں روپے کی گرنٹس کی منظوری دی گئی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے پیش کردہ متعدد سمریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد ملک کے مختلف ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری اداروں کی مالی معاونت کے لیے اربوں روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دے دی گئی۔
یومِ آزادی اور ‘معرکۂ حق’ تقریبات کے لیے فنڈز
ای سی سی نے وزارتِ دفاع کی جانب سے پیش کردہ 2 سمریوں کی منظوری دیتے ہوئے یومِ آزادی اور ‘معرکۂ حق 2025’ کی تقریبات کے اخراجات کے لیے 1 ارب 28 کروڑ 90 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ای سی سی اجلاس: ملکی سلامتی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے بڑے فیصلے، اہم منصوبوں کی منظوری
اس کے علاوہ، کمیٹی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ‘معرکۂ حق یادگار منصوبہ’ کی تعمیر کے لیے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کو 2 ارب روپے کی گرانٹ دینے کی بھی توثیق کی۔
آئی ٹی منصوبوں اور ‘سمارٹ اسلام آباد’ کے لیے رقم مختص
وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی سمریوں پر غور کرتے ہوئے کمیٹی نے ‘پاکستان آسان خدمت مرکز اسلام آباد’ کے دوسرے مرحلے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے 4.5 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی ہے۔
مزید یہ کہ 91 کروڑ 12 لاکھ روپے کی بچت کو ’سمارٹ اسلام آباد انیشی ایٹو‘ کے لیے مختص کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔
بجلی کے شعبے کے لیے 52 ارب روپے اور سبسڈیز میں ردوبدل
پاور ڈویژن کی سفارشات پر ای سی سی نے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) میں حکومتی ایکویٹی کے طور پر سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کو 52 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دی۔
اجلاس میں کے-الیکٹرک سے 97 ارب 64 کروڑ 90 لاکھ روپے کی رقم انٹر ڈسکو ٹیرف ڈیفرینشل میں منتقل کرنے اور ٹیسکو کے 44 ارب 19 کروڑ 80 لاکھ روپے کے بقایاجات کے دعوؤں میں ایڈجسٹمنٹ کی بھی منظوری دی گئی۔
شہداء کے اہل خانہ کی مالی امداد اور ریلوے کے لیے فنڈز
ای سی سی نے سول آرمڈ فورسز کے شہداء کے خاندانوں کو واجبات کی بروقت ادائیگی کے لیے 4.2 ارب روپے فراہم کرنے کی منظوری دی ہے۔
کمیٹی نے ہدایت کی کہ یہ رقم رواں مالی سال میں دستیاب بچت سے فراہم کی جائے جبکہ بقیہ ضروریات اگلے مالی سال میں پوری کی جائیں۔
مزید پڑھیں:ای سی سی اجلاس: پاسکو کے پاس موجود 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم مسابقتی بولی کے ذریعے فروخت کرنے کی منظوری
اس کے ساتھ ہی پاکستان ریلوے کے مالی امور کو بہتر بنانے کے لیے اس کی ’گرانٹ اِن ایڈ‘ میں 7 ارب روپے کے اضافے کی اضافی سمری بھی منظور کی گئی۔
اسٹیل ملز ملازمین کی تنخواہیں اور گیس نیٹ ورک کے لیے ضمانتیں
وزارتِ صنعت و پیداوار کی سمری پر کمیٹی نے پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کی تنخواہوں کی بلا تعطل ادائیگی کے لیے مالی سال 26-2025کے پہلے سے منظور شدہ بجٹ سے فنڈز جاری کرنے کی اجازت دے دی۔
دوسری جانب وزارتِ پیٹرولیم کی درخواست پر سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کی میزان بینک سے حاصل کردہ 50 ارب روپے کی فنانسنگ سہولت کے لیے وفاقی حکومت کی خودمختار ضمانتوں کی مدت میں 30 جون 2027 تک توسیع کر دی گئی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پبلک سیکٹر کے لیے مراعات
وزارتِ داخلہ کی سفارش پر فرنٹیئر کور (ایف سی) خیبرپختونخوا (شمال) کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافے کے لیے 25 کروڑ روپے، جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ملازمین کے اخراجات کے لیے 19 کروڑ 32 لاکھ روپے کی گرانٹ منظور کی گئی۔
علاوہ ازیں وزیراعظم انسپیکشن کمیشن کے ملازمین کے لیے 82 لاکھ 16 ہزار روپے اور بلوچستان میں خدمات سرانجام دینے والے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پی اے ایس) اور پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) کے افسران کے لیے 31 کروڑ 23 لاکھ روپے کے مراعاتی پیکج کی منظوری دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:ای سی سی اجلاس: سیلاب زدگان کے لیے 3 ارب روپے کا ریلیف پیکج منظور
مانیٹرنگ سسٹم، علاقائی ترقی اور اسکیم کا خاتمہ
وزارتِ بحری امور کی سفارش پر ملک بھر کی ماہی گیر کشتیوں میں ‘ویسل مانیٹرنگ سسٹم’ نصب کرنے کے لیے وفاقی حکومت کے حصے کے طور پر 60 کروڑ روپے منظور کیے گئے۔
شانگلہ ترقیاتی منصوبے
وزارتِ ہاؤسنگ و تعمیرات کی درخواست پر ضلع شانگلہ کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے 79 کروڑ 37 لاکھ روپے منتقل کرنے کی منظوری دی گئی۔
پی تھری اے
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کی انتظامی ضروریات کے لیے 2 کروڑ 24 لاکھ روپے جاری کیے گئے۔
اہم فیصلہ
ای سی سی نے یکم جولائی 2026 سے ‘ٹیلی گرافک ٹرانسفر چارجز انسینٹو اسکیم’ (ٹی ٹی سی آئی ایس) کو مستقل طور پر ختم کرنے کی منظوری دے دی۔
اجلاس کے شرکا
اس اہم ترین اجلاس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، اور وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سمیت مختلف وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے وفاقی سیکریٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔













