وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا ایک انتہائی اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کی سلامتی، مواصلاتی نیٹ ورک، انفراسٹرکچر کی بہتری اور مختلف شعبوں کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اربوں روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس اور متعدد اہم پالیسی اقدامات کی منظوری دے دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزرا جن میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر تجارت جام کمال خان شامل تھے، کے علاوہ متعلقہ وزارتوں کے سیکریٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس اجلاس کے فیصلوں کو ملکی معیشت اور سیکیورٹی کے استحکام کے لیے ’سنگِ میل‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
پائیدار ترقیاتی اہداف اور دفاعی منصوبوں کی منظوری
ملک میں جاری ترقیاتی کاموں کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے ای سی سی نے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے پروگرام کے لیے 7 ارب 2 کروڑ 63 لاکھ روپے کی گرانٹ منظور کی۔
یہ بھی پڑھیں:ای سی سی اجلاس: مہنگائی میں کمی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام کے آثار نمایاں
اس فنڈنگ کا بنیادی مقصد جاری منصوبوں کا تسلسل برقرار رکھنا ہے تاکہ لاگت میں اضافے سے بچا جا سکے اور اہداف بروقت حاصل ہوں۔ دوسری جانب، ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے پاک بحریہ کے ’ہنگور پراجیکٹ‘ کے لیے 10 ارب 15 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی، جو ’رافیل ایئرکرافٹ اینڈ فورس ڈویلپمنٹ پیکیج 2030 کے تحت پاکستان کی دفاعی و بحری صلاحیتوں کو جدید ترین خطوط پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
قومی سلامتی، انسدادِ دہشتگردی اور امن مذاکرات کے لیے فنڈز
وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات کی جانب سے پیش کی گئی متعدد اہم سمریوں کو منظور کرتے ہوئے کمیٹی نے امن و امان کے قیام کے لیے خطیر رقم جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔
‘اسلام آباد امن مذاکرات’ کے دوران بہترین سیکیورٹی انتظامات پر 69 کروڑ 29 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی اور کمیٹی نے ان مذاکرات کے کامیاب انعقاد پر تمام متعلقہ اداروں کو سراہا۔
اس کے علاوہ، ترلائی اسلام آباد میں امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ پر ہونے والے خودکش حملے کے متاثرین کے معاوضوں کے لیے 24 کروڑ 10 لاکھ روپے مختص کیے گئے۔
Finance Minister Chairs ECC, Approves Key TSGs and Sectoral Policy Measures
The Economic Coordination Committee (ECC) of the Cabinet met today at the Finance Division under the chairmanship of the Federal Minister for Finance and Revenue, Senator Muhammad Aurangzeb.
The ECC… pic.twitter.com/Vxba0HQ9wV
— Ministry of Finance, Government of Pakistan (@Financegovpk) June 5, 2026
مزید برآں، ‘سیف سٹی اسلام آباد توسیعی منصوبے’ کے لیے 1 ارب 88 کروڑ 37 لاکھ روپے، نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کی آپریشنل ضروریات کے لیے 15 کروڑ روپے اور بلوچستان میں گیم چینجر حیثیت کے حامل ‘ریکوڈک منصوبے’ کی سیکیورٹی کے اخراجات کے لیے 41 کروڑ 39 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی۔ پاکستان کوسٹ گارڈز کے لیے جدید فاسٹ پیٹرول بوٹس کی خریداری کے لیے 80 کروڑ روپے جاری کیے جائیں گے۔
انفراسٹرکچر کی ترقی اور مواصلاتی نیٹ ورک کے لیے بجٹ کی منظوری
ملک کے معاشی حب کراچی اور حیدرآباد کے شہریوں کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے، جہاں ‘کراچی اور حیدرآباد اربن انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پیکیجز’ کے تحت پاکستان انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے اکاؤنٹ میں 8 ارب 75 کروڑ 89 لاکھ روپے منتقل کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں:ون کانسٹیٹیوشن ایونیو معاملہ: وزیراعظم کی طرف سے قائم کی گئی کمیٹی کا پہلا اجلاس، سی ڈی اے کی بریفنگ
کراچی اور حیدرآباد کے شہریوں کے لیے بڑی خبر یہ ہے کہ پاکستان انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے موجودہ اکاؤنٹ میں کراچی اور حیدرآباد اربن انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پیکیجز کے لیے 8 ارب 75 کروڑ 89 لاکھ روپے منتقل کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
یہ فنڈز سڑکوں، نکاسی آب اور دیگر شہری سہولیات کی بہتری پر خرچ ہوں گے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے ’ایس اے پی‘ کے تحت مزید 2 ارب 84 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
پاکستان منٹ کی اپ گریڈیشن اور گلگت بلتستان کے لیے خصوصی فنڈ
دور دراز اور محروم علاقوں کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں موبائل اور انٹرنیٹ کی سہولیات بہتر بنانے کی خاطر اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن کو 18 کروڑ 35 لاکھ روپے فراہم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
کمیٹی نے حکومت گلگت بلتستان کو جاری اخراجات اور ترجیحی ترقیاتی منصوبوں کے لیے 4 ارب 37 کروڑ 70 لاکھ روپے فراہم کرنے کی بھی منظوری دی۔
توانائی کا شعبہ اور پی ایس او کے لیے اربوں روپے کا ریلیف
ملکی توانائی کے بحران اور سپلائی چین کو برقرار رکھنے کے لیے پیٹرولیم ڈویژن کی دو اہم ترین تجاویز کو منظور کیا گیا۔ کمیٹی نے ‘پاکستان اسٹیٹ آئل کے لیے 100 ارب روپے تک کی سنڈیکیٹڈ رننگ فنانس سہولت جاری رکھنے کی منظوری دی، جس سے پی ایس او کی مالیاتی پوزیشن کو استحکام ملے گا۔
مزید برآں’ سنرجیکو پی کے لمیٹڈ‘ کے ساتھ پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 کے تحت نظرثانی شدہ معاہدے کی منظوری دی گئی، جس کا مقصد ’لیٹ پیمنٹ سرچارج ‘ کے دیرینہ مسئلے کو حل کرنا اور ملک میں ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن اور نئی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنا ہے۔ وزارتِ بحری امور کی سمری پر ’اینگرو ووپک ٹرمینل لمیٹڈ‘ کی آپریشنل سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے بھی ضروری منظوری دی گئی۔
ملازمین کی تنخواہیں، بجٹ اعزازیہ اور دیگر اہم منظوریاں
سرکاری اداروں کے ملازمین کے ریلیف کے لیے ای سی سی نے پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن کے ملازمین کی جون 2026 کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کے لیے 73 کروڑ 30 لاکھ روپے جاری کرنے کا حکم دیا۔
پارلیمانی سیکریٹریز کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں نظرثانی کے باعث پیدا ہونے والے اضافی اخراجات کے لیے 11 کروڑ 99 لاکھ روپے منظور کیے گئے جبکہ سرکاری افسران کی رہائشی کرایہ ادائیگیوں کے لیے 2 کروڑ 99 لاکھ روپے منظور کیے گئے۔
کمیٹی نے ’بجٹ اعزازیہ پالیسی’ کی منظوری دیتے ہوئے وزارتِ تجارت، وزارتِ قانون و انصاف اور اے جی پی آر کو بھی اس دائرہ کار میں شامل کر لیا۔
ادارہ جاتی بجٹ اور اعزازیہ پالیسی کی منظوری
ای سی سی نے ’بجٹ اعزازیہ ‘ کی نئی پالیسی کی منظوری دیتے ہوئے وزارتِ تجارت، وزارتِ قانون و انصاف اور اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کو بھی ان اداروں میں شامل کر لیا ہے جو وفاقی بجٹ کی تیاری میں رات دن کام کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی کابینہ اجلاس: اراکین کا امریکا ایران جنگ بندی پر وزیراعظم، وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل کو خراج تحسین
انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن آف پاکستان کے مالی سال 2025-26 کے بجٹ کی بھی منظوری دی گئی، جس کے تحت 91 کروڑ 47 لاکھ روپے کے اخراجات اور 91 کروڑ 80 لاکھ روپے کی متوقع آمدنی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
آخر میں پاکستان منٹ کی جدید کاری اور اپ گریڈیشن فیز2A منصوبے کے لیے 1 ارب 30 کروڑ روپے کی بھی منظوری دی گئی۔
پارلیمنٹ ہاؤس کی جامع مسجد کی توسیع
ای سی سی نے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں واقع جامع مسجد کی توسیع اور اپ گریڈیشن کے لیے 3 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دی۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے تحت مسجد کی گنجائش اور سہولیات میں اضافہ کیا جائے گا۔
اجلاس کے اختتام پر وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ یہ تمام اقدامات ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے، دفاع کو مضبوط بنانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔













