صدر مملکت آصف علی زرداری نے مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ سے متعلق فنانس بل 2026 کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد آئندہ مالی سال کے لیے 17.57 کھرب روپے سے زائد کے بجٹ کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری دیدی
صدر آصف علی زرداری نے جمعہ کو فنانس بل 2026 پر دستخط کر کے اس کی منظوری دے دی، جس کا تعلق مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ سے ہے۔
ایوان صدر کے مطابق صدر مملکت نے فنانس بل کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد بجٹ آئینی تقاضے مکمل ہونے کے بعد نافذ العمل ہونے کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 12 جون کو قومی اسمبلی میں مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کیا تھا، جس میں ٹیکس نظام میں تبدیلیوں، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، دستاویزات کی بہتری اور ڈیجیٹل نظام کو بڑھانے پر توجہ دی گئی۔

قومی اسمبلی نے اپوزیشن کے واک آؤٹ کے بعد منگل کو بجٹ منظور کیا تھا۔ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی 7 ترامیم کثرت رائے سے مسترد کر دی گئیں، جبکہ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی تجاویز کو فنانس بل کا حصہ بنایا گیا۔
منظور شدہ بل میں بعض اہم تبدیلیاں بھی شامل کی گئیں۔ ان میں منرل واٹر اور ہائیڈریشن ڈرنکس پر مجوزہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا خاتمہ، مقامی ایئرلائنز کو طیاروں کی درآمد یا لیز پر سیلز ٹیکس میں رعایت اور برآمد شدہ برقی گاڑیوں پر ڈیوٹی کے نئے طریقہ کار شامل ہیں۔
فنانس بل کے تحت 75 ہزار ڈالر تک مالیت کی درآمدی الیکٹرک گاڑیوں اور ایس یو ویز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد نہیں ہوگی، جبکہ زیادہ مالیت کی گاڑیوں پر مختلف شرح سے ڈیوٹی لاگو ہو گی۔
اس کے علاوہ درآمدی موبائل فونز پر ڈی آئی آر بی ایس ٹیکس کی ادائیگی اقساط میں کرنے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم تمام اقساط متعلقہ مالی سال کے اختتام سے قبل ادا کرنا ہوں گی۔
نئے مالیاتی قانون میں مختلف شعبوں کے لیے ٹیکس سہولیات اور اصلاحات بھی شامل کی گئی ہیں، جن کا مقصد سرمایہ کاری، کاروبار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔














