فیفا ورلڈ کپ: وی اے آر نے ایران کی خوشیاں چھین لیں، مصر ناک آؤٹ مرحلے میں

ہفتہ 27 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فیفا ورلڈ کپ میں ایران کو مصر کے خلاف ڈرامائی مقابلے میں 1-1 سے ڈرا کے بعد ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی کے لیے دیگر نتائج کا انتظار کرنا پڑے گا، جبکہ مصر نے گروپ میں دوسری پوزیشن حاصل کرتے ہوئے آخری 32 ٹیموں میں اپنی جگہ یقینی بنا لی۔

یہ بھی پڑھیں: اسپین نے یوراگوئے کو شکست دے کر ورلڈ کپ سے باہر کر دیا

میچ کا آغاز انتہائی تیز رفتاری سے ہوا اور مصر نے صرف 5ویں منٹ میں برتری حاصل کر لی۔ محمد صلاح کی عمدہ پیش قدمی کے بعد ان کی بائیں پاؤں سے لگائی گئی شاٹ محمود صابر کے پاس پہنچی، جن کی نسبتاً آسان کوشش ایرانی گول کیپر علیرضا بیرانوند کے ہاتھوں سے پھسل کر جال میں جا پہنچی۔

ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے حملے تیز کر دیے۔ مہدی طارمی نے چند ہی لمحوں بعد پنالٹی حاصل کی، تاہم مصری گول کیپر مصطفیٰ شوبیر نے شاندار انداز میں اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔

شوبیر نے ریباؤنڈ پر بھی ایک اور عمدہ سیو کیا، لیکن رامین رضائیان نے تنگ زاویے سے گیند جال میں پہنچا کر 14ویں منٹ میں مقابلہ برابر کر دیا۔

ابتدائی ہنگامہ خیز لمحات کے بعد کھیل نسبتاً سست ہو گیا اور دونوں ٹیموں کو واضح مواقع کم ملے، مصر، جس کی ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی پہلے ہی یقینی ہو چکی تھی، محتاط انداز میں کھیلتا رہا جبکہ ایران نے میچ کے آخری حصے میں دباؤ بڑھا دیا۔

مزید پڑھیں: ازبکستان کیخلاف گول، رونالڈو نے ورلڈ کپ کا نیا ریکارڈ اپنے نام کر لیا

اختتامی لمحات میں ایران فتح کے بے حد قریب پہنچ گیا۔ پہلے مہدی طارمی کا ہیڈر کراس بار سے ٹکرا گیا، پھر اضافی وقت کے تیسرے منٹ میں شجاع خلیل زادہ نے گیند جال میں پہنچا دی، جس پر ایرانی کھلاڑی اور کوچنگ اسٹاف جشن منانے کے لیے میدان میں آ گئے۔

تاہم ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (وی اے آر)  نے جائزے کے بعد خلیل زادہ کو معمولی آف سائیڈ قرار دیتے ہوئے گول مسترد کر دیا، جس کے بعد ایران کی فتح کی امیدیں دم توڑ گئیں اور مقابلہ 1-1 سے برابر ختم ہوا۔

اس نتیجے کے بعد مصر 5 پوائنٹس کے ساتھ گول اوسط کی بنیاد پر بیلجیم کے بعد گروپ میں دوسرے نمبر پر رہا اور اب 3 جولائی کو ڈیلاس میں ناک آؤٹ مرحلے میں آسٹریلیا کا سامنا کرے گا۔

دوسری جانب ایران 3 پوائنٹس کے ساتھ گروپ میں تیسرے نمبر پر رہا اور اب اسے آخری 32 ٹیموں میں جگہ بنانے کے لیے بہترین 8 تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیموں میں شامل ہونے کی امید کے ساتھ دیگر گروپس کے نتائج کا انتظار کرنا ہوگا۔

میچ کے دوران اسٹیڈیم میں مصری شائقین کی بڑی تعداد موجود تھی، تاہم ایرانی تماشائی بھی نمایاں تعداد میں موجود تھے۔ بعض ایرانی شائقین نے انقلاب سے قبل کا ایرانی پرچم لہرایا جبکہ قومی ترانے کے دوران نعرے بازی بھی کی۔

مقامی منتظمین نے اس مقابلے کو ’پرائیڈ میچ‘ قرار دیا تھا، جس کے باعث اسٹیڈیم میں رینبو پرچم بھی دکھائی دیے، تاہم میدان کے باہر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp