سینیٹ کی ذیلی کمیٹی نے تمباکو پر ٹیکس وصولیوں سے متعلق مطلوبہ معلومات فراہم نہ کرنے پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے گزشتہ 20 سال کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا، جبکہ بادشاہ وزیر سے متعلق بدعنوانی کے مقدمے کی تحقیقات وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سپرد کرنے کی ہدایت بھی جاری کردی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت ہوا، جس میں سینیٹر محمد طلحہ محمود، دلاور خان اور ہدایت اللہ خان نے بھی شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر میں انقلابی اصلاحات سے ٹیکس نظام میں شفافیت اور اربوں روپے کی ریکوری ممکن ہوئی، وزیر اطلاعات
اجلاس کے دوران ایف بی آر کے چیف سیلز ٹیکس جاوید اقبال تارڑ مطلوبہ اعداد و شمار پیش نہ کر سکے، جس پر کمیٹی نے انہیں اجلاس سے جانے کی ہدایت کر دی۔
کمیٹی نے تمباکو ساز کمپنیوں سے ٹیکس وصولیوں کی تفصیلات نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ گزشتہ 20 سال کے دوران ٹیکس وصولیوں، بقایا واجبات، رجسٹرڈ تمباکو فیکٹریوں، کمپنیوں، ان کے برانڈز، درآمد شدہ خام مال اور تمام متعلقہ دستاویزات کی مکمل تفصیلات پیش کی جائیں۔
حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان ٹوبیکو کمپنی اور فلپ مورس پاکستان تمباکو کے شعبے میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والی کمپنیوں میں شامل ہیں، جبکہ ٹیکس چوری روکنے کے لیے ایف بی آر کی معاونت کے لیے رینجرز بھی تعینات ہیں۔
اجلاس میں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے مختلف وزارتوں کے لیے چلائی جانے والی میڈیا آگاہی مہمات پر بھی بریفنگ دی۔ کمیٹی نے تمام میڈیا معاہدوں، اخراجات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔
یہ بھی پڑھیں: تمباکو پر ٹیکس: کے پی حکومت کا یوٹرن، کیا حکومت اپنے ہی اراکین کے سامنے بے بس ہے؟
کمیٹی نے ایف آئی اے کو بادشاہ وزیر سے متعلق بدعنوانی کے مقدمے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے خاص طور پر ان خام مال کی درآمد کی چھان بین کرنے کی ہدایت کی، جو ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں کے لیے منگوایا گیا، لیکن اپنی منزل تک نہیں پہنچا۔
اجلاس میں انسدادِ منشیات کی کارروائیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں ہونے والی منشیات کی تقریباً 49 فیصد برآمدگیاں اینٹی نارکوٹکس فورس نے کیں، جبکہ منشیات کے استعمال کا رجحان نباتاتی اشیا سے مصنوعی اور کیمیائی منشیات کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔
کمیٹی نے ضبط شدہ منشیات کو قانونی دائرے میں رہتے ہوئے ادویات سازی یا تحقیقی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا تاکہ انہیں تلف کرنے کے بجائے آمدن حاصل کی جا سکے۔
کراچی پولیس کے ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا کہ 2013 سے 2026 تک منشیات سے متعلق 1 لاکھ 5 ہزار سے زائد مقدمات درج کیے گئے، جبکہ تقریباً 1 لاکھ 27 ہزار ملزمان گرفتار کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کا بڑا فیصلہ، ٹیکس چوری کی ٹھیک اطلاع پر ڈیڑھ کروڑ تک کا اعلان کردیا
اجلاس میں انمول عرف پنکی کے ہائی پروفائل منشیات اسمگلنگ کیس کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے گرفتاری سے متعلق متضاد بیانات اور عدالت پیشی کے دوران غیر معمولی پولیس سیکیورٹی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو بااثر شخصیات سے ممکنہ روابط کی تحقیقات کا حکم دیا۔
کمیٹی نے آئندہ اجلاس کے لیے سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے انسپکٹر جنرلز پولیس کو طلب کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی مطلوبہ معلومات جمع کرانے کی ہدایت کی۔














