اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی غیرقانونی آبادکاری، جبری بے دخلی، زمینوں پر قبضے اور فلسطینیوں کے خلاف تشدد بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، جسے فوری طور پر روکنے کے لیے سلامتی کونسل کو مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جس میں مشرق وسطیٰ بالخصوص فلسطین کی صورتحال پر غور کیا گیا، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی مجموعی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور اس میں بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔
مزید پڑھیں:شاہد آفریدی کا اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرز کا دورہ، سفیر عاصم افتخار سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری میں بے مثال اضافہ اور آبادکاروں کے تشدد کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں، جبکہ فلسطینی اراضی پر قبضے کو انتظامی اور قانونی اقدامات کے ذریعے مزید مستحکم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی رپورٹ کے مطابق 4 ہزار 750 رہائشی یونٹس کی منظوری یا پیشرفت کی گئی، جبکہ ایک ہی کابینہ اجلاس میں 34 نئی اسرائیلی آبادکاریوں کی منظوری دی گئی، جو اب تک کی بلند ترین تعداد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات 2 ریاستی حل اور ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو مزید کمزور کر رہے ہیں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کے مالی وسائل روکنا فلسطینی اداروں کو مفلوج کرنے کی کوشش ہے۔ ان کے بقول آبادکاری، الحاق، مکانات کی مسماری، جبری بے دخلی، آبادی کی منتقلی اور مالی دباؤ الگ الگ واقعات نہیں بلکہ غیرقانونی قبضے کو مضبوط بنانے کی ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 18 جون کو پاکستان سمیت 8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے آبادکاروں کے تشدد، بالخصوص مساجد پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کے غیرقانونی اقدامات کو مسترد کیا تھا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے غزہ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ جنگ بندی کے بعد انسانی امداد کی فراہمی میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم وہاں بھوک، صاف پانی، طبی سہولیات اور بنیادی ضروریات کی شدید قلت برقرار ہے اور 90 فیصد سے زائد آبادی انتہائی سنگین حالات میں زندگی گزار رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود 981 فلسطینی، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ آزاد تحقیقاتی کمیشن کی حالیہ رپورٹ میں فلسطینی بچوں کو دانستہ نشانہ بنانے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن پر جوابدہی یقینی بنائی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی قیادت مسلسل فلسطینی ریاست کے قیام اور 2 ریاستی حل کو مسترد کر رہی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ امن کی راہ میں اصل رکاوٹ کیا ہے۔ ان کے مطابق جزوی اقدامات مسئلے کا حل نہیں، بلکہ سلامتی کونسل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی مجموعی صورتحال کا جامع جائزہ لے کر امن کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا۔
پاکستان نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ اسرائیل کو تمام غیرقانونی آبادکاری کی سرگرمیاں فوری اور مکمل طور پر روکنے پر مجبور کیا جائے، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی، زمینوں کے الحاق اور مکانات کی مسماری کا سلسلہ بند کرایا جائے، آبادکاروں کے تشدد سے فلسطینی شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور فلسطینی اتھارٹی کے روکے گئے مالی وسائل فوری طور پر جاری کیے جائیں۔
مزید پڑھیں:بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اقدام عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار
سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال جنرل اسمبلی کی جانب سے منظور کردہ نیویارک اعلامیہ اور امریکا، عرب و اسلامی ممالک کی حمایت سے جاری امن کوششوں کو عملی شکل دی جانی چاہیے تاکہ مستقل جنگ بندی، انسانی امداد میں اضافہ، غزہ کی تعمیر نو اور اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے والی آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست کا قیام ہی مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کی واحد ضمانت ہے۔














