عالمی توانائی کے شعبے سے ہونے والے کاربن اخراج میں 2025 کے دوران 1.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس میں ہونے والے مجموعی اضافے کا تقریباً ایک تہائی حصہ صرف امریکا کے کھاتے میں رہا۔
اس کی بڑی وجہ قدرتی گیس کی بلند قیمتیں رہیں، جن کے باعث بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں نے دوبارہ کوئلے کا استعمال بڑھا دیا۔
یہ انکشاف انرجی انسٹیٹیوٹ کی سالانہ رپورٹ میں کیا گیا ہے، جو ایمبر، کیرنی انسٹیٹیوٹ اور کے پی ایم جی کے اشتراک سے تیار کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ناروے میں دنیا کا پہلا تجارتی کاربن ڈائی آکسائیڈ قبرستان قائم
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال امریکا میں کوئلے کے استعمال میں 10 فیصد اضافہ ہوا، جس سے صاف توانائی کی جانب جاری پیشرفت کو دھچکا پہنچا اور مجموعی کاربن اخراج میں بھی اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران توانائی کے شعبے سے عالمی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج بڑھ کر 35.806 ارب میٹرک ٹن تک پہنچ گیا۔
شمالی امریکا میں اخراج میں اضافہ گزشتہ 10 برس کے اس رجحان کے برعکس رہا، جس کے دوران اس خطے میں کاربن اخراج اوسطاً 0.7 فیصد سالانہ کم ہو رہا تھا۔
The United States accounted for about a third of the rise in global carbon emissions in 2025, as higher gas prices pushed power producers back to coal, an Energy Institute report showed. https://t.co/42RiqnPGTj
— Reuters Legal (@ReutersLegal) June 29, 2026
دوسری جانب عالمی سطح پر توانائی کی طلب میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا، 2025 کے دوران توانائی کی مجموعی فراہمی میں 1.7 فیصد اضافہ ہوا، جس میں سب سے بڑا حصہ قابلِ تجدید توانائی کا رہا۔
قابلِ تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار 9.1 فیصد بڑھی، جبکہ شمسی توانائی کی پیداوار میں 30 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق یورپ میں توانائی کے شعبے سے کاربن اخراج میں 0.5 فیصد جبکہ چین میں 0.7 فیصد اضافہ ہوا۔
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان کے کاربن کریڈٹ کی فروخت کے لیے مختلف ممالک اور کمپنیوں سے رابطے شروع
عالمی سطح پر بجلی کی طلب میں سالانہ بنیاد پر 3 فیصد اضافہ ہوا، جو بجلی سے چلنے والی گاڑیوں، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کا نتیجہ قرار دیا گیا۔
بجلی کی طلب میں اضافہ، اس کی فراہمی کی شرح سے زیادہ رہا۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں عالمی تیل کی کھپت 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ یومیہ 10 کروڑ 30 لاکھ بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ تیل کی پیداوار میں 3.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مزید پڑھیں: یورپی یونین کی وارننگ، پاکستان پر کاربن اخراج کم کرنے کا دباؤ
ادھر چین میں گزشتہ سال پیٹرول اور ڈیزل کی کھپت میں کمی دیکھی گئی، جو 2024 میں شروع ہونے والے رجحان کا تسلسل ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ قدرتی گیس کی طلب میں زیادہ اضافہ یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور شمالی امریکا میں ریکارڈ کیا گیا، جبکہ یورپ اور بھارت اپنی گیس کی ضروریات کا تقریباً نصف حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کر رہے ہیں۔














