خیبر پختونخوا پولیس نے فورس کی یونیفارم پالیسی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے ڈی ایس پی، اے ایس پی اور ان سے اعلیٰ رینک کے افسران کے لیے براؤن کی جگہ سیاہ (بلیک) بیلٹ اور سیاہ جوتے پہننا لازمی قرار دے دیا ہے، جس پر یکم جولائی سے باقاعدہ عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔
خیبر پختونخوا سینٹرل پولیس آفس کی جانب سے جاری ہدایت نامے کے مطابق یکم جولائی 2026 سے اعلیٰ پولیس افسران براؤن بیلٹ اور براؤن جوتوں کے بجائے سیاہ بیلٹ اور سیاہ جوتے استعمال کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: احتساب کا نعرہ لےکراقتدارمیں آنے والی پی ٹی آئی حکومت اپنے دعوے پر کتنا عمل کرپائی؟
انسپکٹر جنرل (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ تبدیلی اسٹینڈنگ آرڈر کی روشنی میں کی گئی ہے اور اس کا مقصد پولیس فورس کی یونیفارم میں مزید یکسانیت، پیشہ ورانہ ہم آہنگی اور بہتر ظاہری نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے۔
اس تبدیلی سے قبل خیبر پختونخوا پولیس میں ڈی ایس پی، اے ایس پی اور ان سے اعلیٰ رینک کے افسران براؤن بیلٹ اور براؤن جوتے استعمال کرتے تھے، جبکہ انسپکٹر، سب انسپکٹر، اے ایس آئی، ہیڈ کانسٹیبل اور سپاہی سمیت جونیئر رینک کے اہلکار سیاہ بیلٹ اور سیاہ جوتے پہنتے تھے۔ نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد یہ فرق ختم ہو جائے گا اور سپاہی سے لے کر اعلیٰ ترین پولیس افسران تک تمام اہلکار ایک ہی طرز کے سیاہ بیلٹ اور سیاہ جوتے استعمال کریں گے۔
پولیس حکام کے مطابق مختلف رینکس کی یونیفارم میں موجود فرق کو ختم کرنے اور ایک یکساں پیشہ ورانہ شناخت کو فروغ دینے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے فورس میں مزید یکسانیت آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا پولیس کو سیاسی سرگرمیوں سے دور رہنے کی ہدایت، ضابطہ اخلاق جاری
اعلامیے کے مطابق نئی پالیسی کا اطلاق ڈی ایس پی، اے ایس پی، ایس پی، ایس ایس پی، ڈی آئی جی، ایڈیشنل آئی جی اور دیگر اعلیٰ رینک کے افسران پر ہوگا۔ تمام ریجنل پولیس افسران (آر پی اوز) اور ضلعی پولیس افسران (ڈی پی اوز) کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے تاکہ یکم جولائی سے احکامات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے۔
پولیس حکام کے مطابق وقتاً فوقتاً یونیفارم سے متعلق قواعد و ضوابط کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ فورس کی مجموعی پیشہ ورانہ شناخت اور نظم و ضبط کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔














