سعودی عرب نے 2025 کے سیفٹی انڈیکس میں جی 20 ممالک میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات کے مطابق مملکت میں 97.7 فیصد افراد نے کہا کہ وہ رات کے وقت اپنے رہائشی علاقوں میں اکیلے پیدل چلتے ہوئے خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
سعودی عرب نے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے اشاریوں کے ڈیٹا بیس میں شامل ممالک کے اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کیے گئے 2025 کے سیفٹی انڈیکس میں جی 20 ممالک کے درمیان پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔
With the support of our wise leadership—may God protect them—Saudi Arabia ranks first among G20 countries in the 2025 #Safety_Index #SPAGOV #Safe_and_Prosperous_Homeland pic.twitter.com/YIOaX0ik3G
— SPAENG (@Spa_Eng) June 29, 2026
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ نتائج سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات نے جاری کیے، جن کے مطابق مملکت کی مجموعی آبادی میں سے 97.7 فیصد افراد نے بتایا کہ وہ رات کے وقت اپنے رہائشی علاقوں میں تنہا پیدل چلتے ہوئے خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کامیابی مملکت کے مختلف سرکاری اداروں کی ان مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے جن کا مقصد ملک کے تمام علاقوں اور گورنریٹس میں امن و امان برقرار رکھنا اور شہریوں و رہائشیوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم پاکستان کو سعودی عرب کے صوبہ تبوک کے گورنر کا ٹیلیفون، ’اسلام آباد ایم او یو‘ پر خراجِ تحسین پیش
سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات کے مطابق سعودی حکومت سلامتی، استحکام اور معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف شعبوں میں مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ ان میں اقتصادی، غذائی، ماحولیاتی، صحت، سماجی، سیاسی، فکری، تکنیکی اور سائبر سکیورٹی جیسے شعبے شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات ’سعودی وژن 2030‘ کے اہداف کے مطابق عوامی خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانے اور ملک میں جامع ترقی کو فروغ دینے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
Saudi Arabia Strengthens Public Safety with Smart Security Measures.https://t.co/XI1CToXU6c#SPAGOV pic.twitter.com/QCabh2z1JO
— SPAENG (@Spa_Eng) June 29, 2026
سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات نے واضح کیا کہ وہ اپنی تمام شماریاتی سرگرمیاں ایک متحدہ طریقۂ کار کے تحت انجام دیتی ہے، جو ہر شماریاتی منصوبے کی نوعیت کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ طریقۂ کار ’اسٹیٹسٹیکل بزنس پروسیس مینوئل‘ پر مبنی ہے، جو بین الاقوامی شماریاتی اداروں کے تسلیم شدہ معیار سے ہم آہنگ ہے۔
سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات کا کہنا ہے کہ اس منظم اور بین الاقوامی معیار کے مطابق شماریاتی نظام کا مقصد درست، شفاف اور قابلِ اعتماد اعداد و شمار فراہم کرنا ہے تاکہ پالیسی سازی اور قومی ترقی کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔














