کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو بیرونی سرپرستی حاصل رہی، مقصد پاکستان کے مؤقف کو نقصان پہنچانا تھا، انٹیلی جنس رپورٹ

بدھ 1 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت کو پیش کی گئی انٹیلیجنس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخوں اور آٹے کی قیمتوں کے خلاف شروع ہونے والی کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک بتدریج ایک ایسی غیر ملکی حمایت یافتہ مہم میں تبدیل ہوگئی، جس کا مقصد کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو کمزور کرنا، ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا اور خطے میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دشمن انٹیلیجنس ایجنسیوں سمیت بیرونی عناصر نے بالخصوص برطانیہ اور یورپ میں موجود اپنے نیٹ ورکس کے ذریعے اس تحریک کو مالی، تنظیمی اور تشہیری معاونت فراہم کی۔

مزید پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم رہنما راجہ امجد علی کا لاتعلقی کا اعلان، نوجوانوں کو دور رہنے کی اپیل

رپورٹ کے مطابق، ابتدا میں عوامی معاشی مطالبات پر مبنی یہ تحریک بعد میں آزاد کشمیر کے آئینی ڈھانچے کو چیلنج کرنے والی سیاسی مہم میں تبدیل ہوگئی، جس میں قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے خاتمے اور انتخابات میں پاکستان سے الحاق کے حلف کو ختم کرنے جیسے مطالبات بھی شامل کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں مقبوضہ جموں و کشمیر سے ہجرت کرنے والوں کی سیاسی نمائندگی برقرار رکھنے کے لیے قائم کی گئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق آئینی اصلاحات پر سیاسی فورمز میں بحث ممکن ہے، تاہم انتخابات میں رکاوٹ ڈالنے کی دھمکیاں دینا اور آئینی دفعات کو مسترد کرنا جمہوری عمل کے خلاف اقدام ہے۔

انٹیلیجنس رپورٹ میں تحریک کے 2 بڑے احتجاجی مراحل کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مئی 2024 کے لانگ مارچ کے بعد حکومت نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں ریلیف دیا، تاہم احتجاج تشدد میں تبدیل ہوگیا، جس کے نتیجے میں ایک قانون نافذ کرنے والے ادارے کا اہلکار شہید اور 3 شہری جاں بحق ہوئے۔

بعد ازاں ستمبر اور اکتوبر 2025 میں ہونے والے دوسرے لانگ مارچ کے دوران 7 شہری اور 3 اہلکار جان سے گئے، جس کے بعد وفاقی حکومت کی ثالثی میں 4 اکتوبر 2025 کو معاہدہ طے پایا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدے کی بیشتر شقوں پر عملدرآمد ہو چکا ہے یا جاری ہے، تاہم ایکشن کمیٹی نے بعد میں اپنے مطالبات تبدیل کر دیے۔

رپورٹ کے مطابق 9 جون کے احتجاجی اعلان سے قبل پیدا ہونے والی کشیدگی اور پرتشدد جھڑپوں کے بعد، جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 4 اہلکار شہید اور 32 زخمی ہوئے، آزاد جموں و کشمیر حکومت نے انسداد دہشتگردی کے قوانین کے تحت ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا۔

مزید پڑھیں:راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے دھرنے ختم کردیے، کمشنر پونچھ کی تصدیق

رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ مظاہرین نے لاٹھیوں، پتھروں اور آتشیں اسلحے کا استعمال کیا جبکہ بعض احتجاجی مقامات پر عسکری پس منظر رکھنے والے افراد بھی موجود تھے۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ برطانیہ، جنیوا اور یورپی پارلیمنٹ سمیت مختلف مقامات پر پاکستانی سفارتی مشنز کے سامنے احتجاجی مظاہرے منظم کیے گئے، جبکہ کشمیری قوم پرست گروہوں، تحریک انصاف کے بعض حامیوں، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور بھارت نواز پلیٹ فارمز نے مربوط آن لائن مہم کے ذریعے ایکشن کمیٹی کے بیانیے کو فروغ دیا۔

رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ گروپس کے ذریعے بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نمائندوں سے رابطے کیے گئے تاکہ احتجاج کو عالمی سطح پر نمایاں کوریج مل سکے اور آزاد کشمیر کو انسانی حقوق کے بحران کے طور پر پیش کیا جا سکے۔

رپورٹ میں یونائیٹڈ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کو ایکشن کمیٹی کے بیرون ملک سرگرم حامیوں میں شامل کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس تنظیم نے حالیہ احتجاج کو پاکستان کے انتظامی کردار کے خلاف اپنی بین الاقوامی مہم تیز کرنے کے لیے استعمال کیا۔

رپورٹ میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ برطانیہ اور یورپ میں مقیم بعض کاروباری شخصیات اور ایکشن کمیٹی سے وابستہ افراد نے غیر رسمی ہنڈی اور حوالہ نظام کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی۔

تاہم رپورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ تحریک کے آغاز میں بڑی تعداد میں عام شہری حقیقی معاشی مشکلات، مہنگی بجلی اور آٹے کی قیمتوں کے خلاف احتجاج کے لیے اس میں شریک ہوئے تھے، نہ کہ بعد میں سامنے آنے والے سیاسی ایجنڈے کی حمایت کے لیے۔

مزید پڑھیں:آزاد کشمیر کے عوام نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال مسترد کردی

رپورٹ کے مطابق کور کمیٹی کے بعض ارکان نے بھی تنظیم کی بدلتی سمت اور ریاستی اداروں کے خلاف بیانات پر اختلاف کرتے ہوئے خود کو تحریک سے الگ کر لیا۔

رپورٹ کے اختتام پر سفارش کی گئی ہے کہ حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا عمل جاری رکھے، تاہم تشدد، بیرونی مالی معاونت، ریاست مخالف پروپیگنڈے اور دشمن نیٹ ورکس سے مبینہ روابط رکھنے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو کمزور کرنے کی مبینہ بیرونی کوششوں کا سدباب کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر فضا علی کو برطانوی پارلیمنٹ میں ایوارڈ سے نواز دیاگیا

امریکا، ایران مذاکرات کا اگلا دور آج دوحہ میں، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنا اولین ہدف

’ان کو فوری گرفتار کیا جائے‘، ٹک ٹاک کے جنون میں گاڑی دریائے کنہار میں جاگری

ون کانسٹیٹیوشن ایونیو معاملہ: وزیراعظم نے ہائی لیول جے آئی ٹی تشکیل دے دی، 60 روز میں رپورٹ طلب

ناران: ٹک ٹاک ویڈیو کے لیے سیاح نے گاڑی دریا میں اتار دی، ریفٹنگ والوں نے جان پر کھیل کر 4 افراد کو بچا لیا

ویڈیو

امریکا، ایران مذاکرات کا اگلا دور آج دوحہ میں، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنا اولین ہدف

فٹبال ورلڈ کپ: سعودی آرامکو کی انعامی مہم، جانیے تحائف کی تفصیل

سندھ طاس معاہدہ: پانی، امن اور مستقبل کی کہانی

کالم / تجزیہ

عالمی ریکارڈ کا حامل پاکستانی ڈاک ٹکٹ

تحریک انصاف اور محمود اچکزئی: ارادے کیا ہیں؟

جس کے ذکر سے پہلے پلکیں اشکوں سے وضو کرتی ہیں