۔
۔
خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقام ناران میں ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے لیے گاڑی دریا کی تیز لہروں میں اتارنے والے سیاحوں کو بچا لیا گیا، جبکہ گاڑی بھی نکال لی گئی۔
خیبر پختونخوا ٹورازم اتھارٹی کے مطابق، واقعہ گزشتہ روز ناران میں دریائے کنہار میں پیش آیا، جہاں سیاحوں نے ڈبل کیبن گاڑی دریائے کنہار میں اتار دی۔ واقعے کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑی چند منٹوں میں پانی میں بہہ جاتی ہے۔ حکام کے مطابق، واقعہ ناران سے 4 کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے کنہار میں پیش آیا، جہاں موجود ریفٹنگ کرنے والوں نے ریسکیو کے لیے آگے آ کر مدد کی۔
یہ بھی پڑھیے وادی نیلم میں جیپ کھائی میں جاگری، میاں بیوی سمیت 4 افراد جاں بحق، 4 زخمی
خیبر پختونخوا میں ٹورازم سہولت مرکز کے ایک اہلکار نے وی نیوز کو بتایا کہ خیبر پختونخوا میں تیز بارشوں کی پیشگوئی اور گلیشیئر پھٹنے کے خدشات کے باعث سیاحوں کو دریا کناروں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے دفعہ 144 بھی نافذ کر رکھی ہے، لیکن اس کے باوجود بھی سیاح احتیاط نہیں کر رہے۔
ناران واقعے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ واقعہ ایک سیاحتی مقام پر پیش آیا، جہاں ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے لیے ایک سیاح نے گاڑی تیز بہاؤ والے دریا میں اتار دی۔ انہوں نے بتایا کہ گاڑی میں 4 افراد سوار تھے۔
’جو معلومات اب تک موصول ہوئی ہیں، ان کے مطابق گاڑی کا مالک ٹک ٹاک کا شوقین ہے اور اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ کے لیے ویڈیو بنانے کی خاطر اس نے اتنا بڑا خطرہ مول لیا۔‘
یہ بھی پڑھیے آزاد کشمیر: گاڑی دریائے نیلم میں گرنے سے 4 افراد جاں بحق
انہوں نے کہا کہ دریا میں اترنے کے فوراً بعد گاڑی بہنے لگی، جبکہ ڈرائیور اسے نکالنے کی پوری کوشش کرتا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ دریا میں پانی کی سطح بلند تھی، اور جب گاڑی 90 فیصد ڈوب گئی تو وہاں موجود ریفٹنگ کرنے والے ریسکیو کے لیے آ گئے۔
’یہ بہت مشکل مرحلہ تھا۔ پانی کا بہاؤ تیز تھا اور نوجوانوں نے جان پر کھیل کر انہیں ریسکیو کر لیا۔‘
واقعے کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ریفٹنگ کرنے والے باری باری گاڑی میں سوار افراد کو نکال رہے تھے، جبکہ آخری شخص کو اس وقت نکالا گیا، جب گاڑی تقریباً مکمل طور پر ڈوب چکی تھی اور وہ اس کے اوپر کھڑا تھا۔ ریسکیو کرنے والوں میں سے ایک شخص ان کے ساتھ گاڑی کے اوپر چلا جاتا ہے اور پھر اسے اپنے ساتھ چھلانگ لگا کر ریفٹنگ بوٹ میں لے آتا ہے۔ واقعے کے وقت بڑی تعداد میں سیاح اور مقامی لوگ وہاں موجود تھے۔
ٹورازم سہولت مرکز کے اہلکار نے بتایا کہ گاڑی میں سوار تمام افراد کو بچا لیا گیا تھا، تاہم گاڑی دریا میں ہی موجود تھی۔ انہوں نے بتایا کہ آج دوبارہ ریسکیو آپریشن کے دوران گاڑی کو بھی بھاری مشینری کی مدد سے نکال لیا گیا۔












