پاکستان مسلم لیگ ن نے آزاد کشمیر کے آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے بھرپور انتخابی مہم چلانے کا فیصلہ کرلیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت لاہور میں ہونے والے اہم اجلاس میں وفاقی وزیر امور کشمیر امیر مقام، سینیئر مسلم لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق، رانا ثنااللہ، سینیٹر پرویز رشید، صدر ن لیگ آزاد کشمیر شاہ غلام قادر، سیکریٹری جنرل طارق فاروق اور ٹکٹ ہولڈرز نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: مسلم لیگ ن انتخابی مہم کا آغاز کرکے دیگر سیاسی جماعتوں پر بازی لے گئی
اجلاس میں ریاست میں انتخابی مہم چلانے کے لیے آزاد کشمیر میں وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کو کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا، جبکہ مہاجرین مقیم پاکستان کے حلقوں میں یہ ذمے داری خواجہ سعد رفیق کو دی گئی ہے۔
اجلاس میں آزاد کشمیر کی مسلم لیگی قیادت نے مریم نواز کو ریاست کی مجموعی صورت حال سے آگاہ کیا اور الیکشن مہم کے حوالے سے حلقہ وار بریفنگ دی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سمیت وفاقی وزرا، ایم این ایز اور ایم پی ایز انتخابی جلسوں سے خطاب کریں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم پاکستان شہباز شریف بھی کسی سرکاری تقریب میں شرکت کے لیے آزاد کشمیر کا دورہ کر سکتے ہیں جہاں کچھ اعلانات کیے جا سکتے ہیں، تاہم وہ انتخابی جلسے سے خطاب نہیں کر سکتے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ٹکٹ نہ ملنے پر پارٹی سے ناراض ہونے والے رہنماؤں کو منانے کے لیے بھی سینیئر رہنماؤں کو ٹاسک دے دیا گیا ہے، اور سالار جمہوریت سردار سکندر حیات (مرحوم) کے فرزند فاروق سکندر کو منانے کی ذمے داری طاہرہ اورنگزیب کو دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ کوٹلی سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن کے نظریاتی رہنما ملک ذوالفقار کو بھی منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ملک ذوالفقار کوٹلی کے حلقہ راج محل سے ٹکٹ نہ ملنے کے باعث پارٹی قیادت سے ناراض ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کے آزاد کشمیر میں جلسوں سے خطاب کرنے سے ریاست میں ایک انتخابی ماحول بنے گا، جس سے سیاسی عمل بحال ہوگا۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو عام انتخابات کرانے کے لیے الیکشن کمیشن متحرک ہے، اور حکومت کی جانب سے فنڈز بھی جاری کردیے گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں بروقت انتخابات ہونا ناگزیر ہے، ریاست میں وقت پر انتخابات ہونے سے افراتفری کی فضا بھی ختم ہو جائےگی۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی میدان سج گیا، کن حلقوں میں سخت مقابلے متوقع ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ عام انتخابات میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان مقابلہ ہوگا، اور کئی حلقوں میں کانٹے دار مقابلوں کی توقع کی جارہی ہے۔












