ریٹرن ٹو آفس پالیسی کے باوجود دنیا بھر میں کتنے ملازمین گھر سے کام کر رہے ہیں، وجوہات کیا ہیں؟

بدھ 1 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا بھر میں ریٹرن ٹو آفس (دفاتر واپسی) کی پالیسی میں تیزی آنے کے باوجود ملازمین کی ایک بڑی تعداد اب بھی گھر سے کام کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ورک فرام ہوم کرنے والے ہنر مندوں کے لیے کینیڈا کی نئی پالیسی کیا ہے؟

نئی تحقیق کے مطابق 2025 کے دوران گھر سے کام کرنے والے افراد کی تعداد میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

امریکی ادارہ برائے شماریات (بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس) کے تازہ ترین امریکن ٹائم یوز سروے کے مطابق گزشتہ سال 35 فیصد ملازمین نے مکمل یا جزوی طور پر گھر سے کام کیا جبکہ سال 2024 میں یہ شرح 33 فیصد تھی۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بیچلر ڈگری یا اس سے اعلیٰ تعلیم رکھنے والے افراد کے گھر سے کام کرنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح خواتین بھی مردوں کے مقابلے میں گھر سے کام کرنے کو زیادہ ترجیح دیتی ہیں جبکہ وہ بچوں کی دیکھ بھال اور گھریلو ذمہ داریوں پر بھی نسبتاً زیادہ وقت صرف کرتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بعض خواتین ایسی ملازمتوں کو ترجیح دیتی ہیں جن میں تنخواہ نسبتاً کم ہو لیکن کام کے اوقات اور طریقہ کار میں زیادہ لچک موجود ہو تاکہ وہ خاندانی ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں نبھا سکیں۔ ماہرین کے مطابق یہی رجحان مرد و خواتین کی آمدنی کے درمیان موجود فرق کی ایک اہم وجہ بھی ہے۔

مزید پڑھیے: نوکری کرنے والی ماؤں کے لیے ریموٹ ورک، کیا اب یہ لازمی بننے جارہا ہے؟

اگرچہ متعدد کمپنیوں نے ملازمین کی دفاتر میں واپسی کو یقینی بنانے کے لیے سخت پالیسیاں نافذ کی ہیں تاہم بہت سے ملازمین ان پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں ’ہائبرڈ ورک ماڈل‘ اب ایک استثنیٰ کے بجائے معمول بنتا جا رہا ہے۔

دوسری جانب عالمی بھرتی اور افرادی قوت کے ادارے رینڈسٹیڈ کی جانب سے 27 ہزار سے زائد ملازمین پر کیے گئے ایک الگ سروے سے بھی معلوم ہوا ہے کہ ملازمین اب روایتی صبح 9 سے شام 5 بجے تک کے دفتری نظام کے مقابلے میں خودمختاری اور کام کے اوقات میں لچک کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملازمین کی ایک تہائی سے زیادہ تعداد اب بھی ورک فرام ہوم پر عمل پیرا ہے۔

رینڈسٹیڈ کی 2026 ورک مانیٹر رپورٹ کے مطابق 81 فیصد آجروں کا کہنا ہے کہ ریموٹ یا ہائبرڈ ورک ماڈل نے باہمی تعاون اور رابطوں کو مشکل بنایا ہے تاہم صرف 48 فیصد ملازمین کا خیال ہے کہ دفتر میں موجودگی ان کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: ریموٹ ورک کے لیے مشہور زوم کمپنی نے ملازمین کو دفتر واپس بلانا شروع کر دیا

رینڈسٹیڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سینڈر وانٹ نورڈینڈے کے مطابق روایتی کیریئر اہداف تبدیل ہو رہے ہیں اور ملازمین و ادارے دونوں کامیابی کے تصور کو زیادہ لچکدار انداز میں دیکھ رہے ہیں تاہم انسانی روابط اب بھی تنظیموں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کراچی: لی مارکیٹ میں کھدائی کے دوران 2 مجسمے برآمد، ماہرین نے تحقیق شروع کر دی

خیبر پختونخوا میں 27 جولائی تک بارشوں اور تیز ہواؤں کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

سوشل میڈیا نے تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کر دیا، لوگ صرف ٹرینڈز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، جاوید اختر

پاکستان کا دوٹوک انتباہ، حوثی باغیوں کی خیر نہیں، ایران کا بڑا اعلان، امریکا کی چال بھی ناکام

گوگل جیمنی کی اے آئی تصاویر سے نمایاں واٹر مارک ہٹانے کی سہولت متعارف کرا سکتا ہے

ویڈیو

پاکستان کا دوٹوک انتباہ، حوثی باغیوں کی خیر نہیں، ایران کا بڑا اعلان، امریکا کی چال بھی ناکام

مودی نے طلبا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے، بھارتی ایجنسی کس طرح پاکستانی صحافیوں کو استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے؟

قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے

کالم / تجزیہ

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

شفاف انتخابات کا فریب