مس ورلڈ پاکستان کی فائنلسٹ انیسہ شیخ نے انٹرنیٹ پر بڑھتے ہوئے شدید دباؤ اور آن لائن کشیدگی کے بعد سائبر بلنگ اور ہراساں کرنے کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے اس عمل کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستانی نژاد امریکی ماڈل، گلوکارہ اور ماہر تعلیم، جو اس سے قبل 2022 میں مس گرینڈ پاکستان کے طور پر ملک کی نمائندگی کر چکی ہیں، نے اپنے آفیشل پلیٹ فارم پر انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کے حوالے سے اپنا موقف واضح کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نئے گانے کی ویڈیو میں ماڈل کے بولڈ لباس پر تنقید کا علی ظفر نے کیا جواب دیا؟
ان کا یہ بیان محض ایک رسمی ردعمل نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ان کا ایک گہرا ذاتی صدمہ بھی شامل ہے کیونکہ وہ آن لائن بلنگ کی وجہ سے اپنے 22 سالہ بھائی کو کھو چکی ہیں۔
انیسہ شیخ نے ایک جذباتی ویڈیو اور کیپشن کے ذریعے واضح کیا ہے کہ کسی بھی مقابلے، اعزاز یا اختلافِ رائے کے مقابلے میں انسانی تحفظ اور ذہنی صحت ہمیشہ سب سے اہم ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اپنے بھائی کو آن لائن بلنگ کی وجہ سے کھونے کے بعد وہ اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیتی ہیں اور وہ کسی بھی فرد کے خلاف دھمکیوں، ہراساں کرنے اور بلنگ کے عمل کی ہمیشہ مذمت کرتی رہیں گی۔
یہ بیان مس ورلڈ پاکستان کے انتخابی عمل کے ایسے نازک موڑ پر سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا پر مختلف مداحوں کے گروپوں کی جانب سے ججوں کے پینل کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مس یونیورس میں پاکستانی خواتین کی شرکت: حکومت کا موقف کیا ہے؟
انہوں نے دنیا بھر کی خواتین سے بھی براہ راست اپیل کی ہے کہ وہ اس زہریلے آن لائن کلچر کا خاتمہ کریں اور ایسے رویوں سے دور رہیں جو دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
انیسہ شیخ نے انسٹاگرام پر بتایا ہے کہ احتساب کو یقینی بنانے کے لیے ان کی ٹیم نے ایک خصوص رپورٹنگ چینل قائم کیا ہے جہاں ہراساں کرنے یا دھمکیوں کے اسکرین شاٹس بھیجے جا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ موصول ہونے والی معتبر رپورٹس کو باقاعدہ دستاویز کی شکل دے کر فوری قانونی کارروائی کے لیے لاہور اور اسلام آباد کے متعلقہ حکام اور قانونی کمشنرز کو بھیجا جارہا ہے۔












