بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع بستر میں مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے کیے گئے آڈٹ کے دوران قریباً 2 کروڑ روپے کی تنخواہوں میں خردبرد کا انکشاف ہونے پر 3 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار اہلکاروں میں گیریش رائے، راج کمار کٹلم اور ہیمنت میتھیو شامل ہیں۔ مرکزی ملزم گیریش رائے جگدل پور میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) کے دفتر کے شعبۂ تنخواہ میں تعینات تھا، جہاں اس نے مبینہ طور پر اکتوبر 2023 سے مئی 2026 تک تنخواہوں کا ریکارڈ تبدیل کرکے اپنی اور 2 دیگر اہلکاروں کی تنخواہیں غیرقانونی طور پر بڑھائیں اور سرکاری خزانے سے ڈیڑھ سے 2 کروڑ روپے نکلوائے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کے معمول کے داخلی و بیرونی آڈٹ کے بعد اے آئی سے معاونت یافتہ تجزیے نے تنخواہوں کے اخراجات میں غیرمعمولی اضافے کی نشاندہی کی، جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ مرکزی ملزم بعض دیگر ملازمین کی تنخواہیں بھی قرض دینے کے بہانے بڑھاتا تھا اور بعد میں اضافی رقم نقد واپس وصول کرلیتا تھا۔
مزید پڑھیں:امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
پولیس نے تینوں ملزمان کے خلاف دھوکا دہی، جعلسازی، مجرمانہ خیانت اور سرکاری فنڈز میں خردبرد کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے انہیں 14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔














